1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عدلیہ کی کرپشن پر قلم اُٹھانے کی پاداش میں اخبار بند، صحافی گرفتار

عمان میں عدلیہ کی مبینہ بدعنوانی کے بارے میں رپورٹنگ کرنے والے ایک اخبار کو حکام نے بند کروا دیا ہے اور اس سلسلے میں تین صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس بارے میں ایک انٹرنیشنل واچ ڈاگ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بُدھ کو ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ کی اشاعت سے ایک روز قبل حکومت عمان نے کہا تھا کہ اُس نے ایک اخبار کی طرف سے عمانی عدلیہ کی تضحیک و توہین کیے جانے کے سبب اُس کے خلاف غیر معین ایکشن لیا ہے۔ حکومت کی طرف سے تاہم نہ تو اس اخبار کی شناخت بتائی گئی اور نہ ہی اس کے خلاف لیے جانے والے ایکشن کی تفصیلات بتائی گئی تھیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عربی زبان کے روزنامے الزمن اور اس کی آن لائن نیوز سائٹ کو گزشتہ منگل ہی کو بند کر دیا گیا تھا جبکہ قبل ازاں اس اخبار کے چیف ایڈیٹر کے نائب یوسف الحج کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ رواں برس جولائی میں اس اخبار کے بانی اور چیف ایڈیٹر ابراہیم الماماری کو حکام نے گرفتار کرلیا تھا۔ اُس کے بعد چیف ایڈیٹر کے نائب یوسف الحج اخبار الزمن کے تیسرے صحافی ہیں جنہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

عربی زبان کے اس اخبار نے 2014ء میں عمان کی عدلیہ میں کرپشن کے حوالے سے تفصیلی رپورٹنگ کرتے ہوئے بدعنوانی کی تفصیلات شائع کی تھیں۔ تب مختلف کمپنیوں کے متعدد ایگزیکٹیوز اور اہلکاروں کو سزا کے طور پرجرمانہ ادا کرنا اور جیل جانا پڑا تھا۔

Oman - Zeitschrift

2014ء میں عمان کی عدلیہ میں کرپشن کے حوالے سے اخبار میں خبریں شائع ہوئی تھیں

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پروگرام کے نائب ڈائریکٹر ماجدالينا المغربی نے ایک بیان میں کہا، ’’ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اخبار الزمن کے صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کے جائز حق کے استعمال کی سزا مل رہی ہے۔‘‘

مغربی کا مزید کہنا تھا، ’’عدلیہ پر تنقید کرنا اور مبینہ کرپشن کے الزامات پر رپورٹنگ کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ اگر ان صحافیوں کو صرف اور صرف اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کے سبب گرفتار کیا گیا ہے تو حکام پر لازم ہے کہ وہ انہیں جلد سے جلد رہا کر دیں۔‘‘

دریں اثناء اخبار الزمن کے اسٹاف کے ایک رکن نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ الزمن کے بانی اور چیف ایڈیٹر ابراہیم الماماری گزشتہ ہفتے گرفتار ہونے والے ایک اور صحافی کے ہمراہ ہنوز زیر حراست ہیں۔

اُدھر سرکاری نیوز ایجنسی ONA نے گزشتہ منگل کی شب ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’ایک اخبار نے نہ صرف آزادی رائے کے حق کے استعمال میں حد سے تجاوز کیا ہے بلکہ اس نے ریاست کے ایک اہم ستون کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی ہے۔‘‘

سرکاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے عدلیہ کو ایسے عناصر سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے غیر معین اقدامات کیے ہیں جو اس کا ناجائز فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں۔

DW.COM