1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عدلیہ کی بحالی کے باوجود سیاسی بے یقنی قائم

آزاد عدلیہ کی تحریک کی کامیابی کے بعد ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب اب بھی اقتدار کی رسہ کشی کا شکار ہے۔

default

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے باوجود سیاسی بیاب بازی اور کشیدگی ختم نہیں ہوئی

گو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر جج صاحبان اپنے منصب پر بحال ہوچکے ہیں مگر شریف برادران کے خلاف ریفرنس اور ججز کی بحالی کے حوالے سے آئین کی نئی نئی تشریحات سامنے آ رہی ہیں۔

ملک کے ممتاز قانون دان اور سابق وزیر قانون خالد انور جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی پر خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 17 ویں آئینی ترمیم فوری طور پر ختم ہونا چاہئے لیکن وہ متوقع 18 ویں ترمیم کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ خالد انور کا کہنا ہے کہ 18 ویں ترمیم میں کچھ اچھے نکات بھی ہیں لیکن اس ترمیم کی خرابی یہ ہے کہ ملک میں کسی سیاسی بحران کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک سے نکلنے کا کوئی طریقہ اس ترمیم میں واضح نہیں کیا گیا ہے جو ایک خطرناک بات ہےـ

پختوان خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ آزاد عدلیہ اور ججز کی بحالی کا عوامی خواب پورا ہوگیا ہے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ سیاستدانوں کو بحران میں فیصلہ کروانے کے لئے ایک فوجی جنرل کے اثر و رسوخ کو استعمال کرنا پڑا۔ اگر صدر زرداری بغیر دباؤ کے یہ کام کر دیتے تو ان کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ ہو جاتا۔

سابق نگراں وزیراعظم اور نیشنل پارٹی کے قائد غلام مصطفی جتوئی 16 مارچ کو بڑے عوامی ردعمل کے نتیجہ میں ججز کی بحالی کے حوالے سے حکومتی فیصلہ تبدیل کرنے کے عمل کو سراہتے ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ اب ملک مزید کسی سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا، بحران سے نکلنے کا واحد راستہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں ہی مضمر ہے۔

16 مارچ کو آزاد عدلیہ کا سورج طلوع ہونے کے بعد اب سیاسی افق پر آخری معرکہ صوبہ پنجاب میں ہونا ہوا نظر آ رہا ہے لیکن اس بحران کو صرف پنجاب کا مسئلہ سمجھنا غلط فہمی ہوگی، یہ بحران دیگر صوبوں تک بھی پھیلے گا کیونکہ سیاسی بے چینی کے آثار جنوبی صوبہ سندھ میں بھی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سندھی قوم پرست پیپلز پارٹی کے حامی صدر زرداری کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کھلم کھلا کرتے ہیں، وہیں حکومت کی اہم حلیف جماعت MQM کے قائد الطاف حسین نے بھی گلے شکوؤں کا آغاز کر دیا ہے۔ کراچی میں پیپلز پارٹی اور MQM کے حامیوں کے درمیان حالیہ تصادم بھی بڑھتی ہوئی کشیدگی کی جانب واضح اشارہ ہے۔

ادھر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کر 17 ویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے اور صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کے ذریعے محدود کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس سارے معاملہ میں مسلم لیگ (ن) اور MQM کا کردار بہت اہم ہوگا۔ سیاسی ناقدین اس معاملہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ صدر وزیراعظم کے درمیان سرد جنگ کب اپنے منطقی انجام تک پہنچتی ہے۔