1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عدلیہ کی بحالی : لیکن کب

پاکستان پیپلز پارٹی نے معزول عدلیہ کی بحالی پر کوئی حتمی تاریخ دینے سے گریز کیا ہے تاہم منگل کے دن اتحادی حکومت کے سربراہی اجلاس کے بعد بالخصوص مسلم لیگ ن کے راہنماوں نے کہا ہے کہ عدلیہ میثاق بھوربن کے مطابق تیس دنوں کے اندر اندر بحال کی جائے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی اگرچہ معزول عدلیہ کی بحالی کے حق میں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس کا طریقہ کار طے کرنا ابھی باقی ہے ۔

اسی دوران معزول جسٹس فلک شیر کا نام بھی ممکنہ چیف جسٹس آف پاکستان کے لئے سامنے آ گیا ہے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ڈویچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا اصل مسلہ دو نومبر کی صورتحال کو دوبارہ بحال کرنا ہے ورنہ کوئی بھی فوجی سربراہ مستقبل میں اس واقعہ کو اپنے مفاد میں استعمال کر نے کے قابل ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کون ہو گا اور کون سنئیر ہے اس بات کا فیصلہ عدالتی قوانین کے مطابق بعد میں ہو سکتا ہے جس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

مسلم لیگ ن کے راہنماوں کی طرف سے اس بیان کے بعد کہ عدلیہ تیس دنوں کے اندر ہی بحال ہو گی ، فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ترجمان کی حثیت سے وہ اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ اس سے غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

Audios and videos on the topic