1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عدلیہ بحالی تحریک کے دو سال

عدلیہ بحالی تحریک کے دو سال مکمل ہونے پر ملک بھر کی طرح راولپنڈی اور اسلام آباد کے وکلاء نے بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی ریلیاں نکالیں ۔

default

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

وکلاء کے مختلف وفود نے اسلام آباد میں معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر ملاقاتیں بھی کیں۔ اس موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں راولپنڈی بار کے صدر ملک شہزاد نے کہا کہ 9مارچ0072ء سے شروع ہونے والی عدلیہ بحالی تحریک کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ان کے بقول وکلاء ، سول سوسائٹی اور آزاد عدلیہ کی حامی جماعتوں نے معزول چیف جسٹس کی بحالی کے لئے جو قربانیاں دیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی۔

’’لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ 7 جج بھیجے گئے ہیں جبکہ چھ کورٹ روم ہیں، ایک جج کی عدالت ٹی روم میں لگائی گئی اور وہاں پر بٹھایا گیا لیکن اس کے باوجود ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں آج یوم افتخار منانے کےلئے مکمل ہڑتال تھی۔‘‘

Pakistanische Anwälte protestieren in Lahore gegen die Ermordung Benazir Bhutto Pakistan

پاکستانی وکلا ایک احتجاجی جلوس کے دوران

لانگ مارچ میں شرکت کرنے کےلئے لاہور سے اسلام آباد تک پیدل سفر کرنے والے درجن بھر وکلاء نے بھی افتخار چوہدری کے ساتھ ملاقات کی اور بعد ازاں ڈوئچے ویلے کے ساتھ گفتگو میں اس گروپ کے سربراہ لیاقت علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ انہوں اسلام آباد پیدل پہنچ کر ان حکومتی افواہوں کو غلط ثابت کیا ہے کہ وکلاء کو لانگ مارچ میں شرکت سے روک دیا جائے گا۔

’’ ہم نے اس سفر کا آغاز اس لئے کیا کہ ہم پیدل جا رہے ہیں جس نے ہمیں روکنا ہے روکے اور اگر 12 مارچ سے پہلے راستے جی ٹی روڈ وغیرہ بند کی گئی تو ایک لاکھ وکلا اسی طرح لانگ مارچ میں شرکت کے لئے شاہراہ دستور پر پہنچیں گے اور وہاں دھرنا دیں گے اور جب تک چیف جسٹس اور 2 نومبر والی عدلیہ بحال نہیں ہو جاتی ہم یہاں اسلام آباد سے نہیں جائیں گے۔‘‘

Pakistan Präsident Aitzaz Ahsan in Islamabad, Wiederherstellung der Richter

وکلاء تحریک کے روح رواں سمجھے جانے والے بیرسٹر اعتزاز احسن

معزول چیف جسٹس سے ملاقات کرنے والوں میں انسانی حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللہ بھی شامل تھیں جنہوں نے اس موقع پر ڈوئچے ویلے کے لئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ آخری دم تک عدلیہ بحالی کی اس تحریک کے ساتھ رہیں گی۔ طاہرہ عبداللہ نے پیپلز پارٹی حکومت کی طرف سے روزمرہ کی بنیادوں پر مختلف عدالتوں میں من پسند ججوں کی تعیناتی کی مخالفت بھی کی۔

’’ یہ جو کینگرو کورٹس بھرے جا رہے ہیں یہ ہمیں دنیا کو دکھانے کے لئے ایک اور ثبوت ملتا ہے کہ ہمارا موقف صحیح ہے اور جو کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے۔‘‘

مبصرین کے خیال میں حکومت وکلاء کے لانگ مارچ کے ساتھ سختی سے نمٹنے کےلئے زبردست تیاریوں میں مصروف ہے تاہم 9مارچ 2007ء کو جسٹس افتخار چوہدری نے پانچ جرنیلوں کے سامنے صدر مشرف کے دوبارہ انتخاب میں تعاون سے انکار کرکے طاقتور حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جو شمع روشن کی تھی شاید اس کو انتظامی اقدامات کے ذریعے نہیں بجھایا جا سکے گا۔