1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عدالت نے فرٹسل کو مجرم قرار دے دیا

اپنی بیٹی کو 24 سال تک گھر کے تہہ خانے میں بند رکھ کر آبروریزی کرنے والے ملزم یوزیف فرٹسل کے خلاف جاری مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ گزشتہ روز ملزم نے اقدام قتل سمیت اپنے خلاف لگائے گئےتمام الزامات قبول کرلئےتھے۔

default

فرٹسل پولیس اہلکاروں کے ہمراہ کمرہ عدالت کی طرف جاتے ہوئے

آسٹریا میں بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی اوراسے چوبیس سال تک قید میں رکھنے والے ملزم یوزیف فریٹسل کوعمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اس دوران اسے نفسیاتی ہسپتال میں رکھا جائے گا۔ اس پر جنسی زیادتی، اسیری، بربریت اور نومولود کے قتل کا الزام ثابت ہوا ہے۔ تاہم یوزیف فریٹزل اپیل کے حق سے دستبردار ہو گیا ہے۔ اس نے ابتدا میں قتل اور اسیری کے الزامات سے انکار کیا تھا۔ تاہم عدالت میں اپنی بیٹی الزبتھ کا ویڈیو بیان دیکھنے کے بعد اس نے جرم قبول کر لیا۔ اس نے اپنی بیٹی کو چوبیس سال قید میں رکھنے کے دوران اس سے بارہا جنسی زیادتی کی اور ان کے سات بچے پیدا ہوئے، جن میں سے ایک پیدائش کےبعد انتقال کر گیا جس کی موت کا ذمہ دار یوزیف ٹسل کو ٹھہرایا گیا ہے۔

جمعرات کے روز عدالتی کارروائی کے دوران یوزف فرٹسل نے ایک مرتبہ پھر اقبال جرم کرتے ہوئے کہا: میں دل کی گہرائی سے معافی مانگتا ہوں۔‘‘ تاہم استغاثہ کا کہنا تھا کہ فرٹسل کی جانب سے یہ تمام جملے ان کے جرم کی شدت میں کسی طرح کی کمی کے لئے ناکافی ہیں اور انہیں کم از کم 24 سال کی عمر قید سنائی جائے۔

عدالتی کارروائی کے تیسرے روز بدھ کوفرٹسل نے عدالت کو بتایا کہ جرم کا شکار ہونے والی اس کی بیٹی کی طرف سے عدالت میں پیش کئے گئے وڈیو ثبوت کے بعد وہ اپناگزشتہ بیان واپس لیتے ہوئے تمام الزامات قبول کرتا ہے۔ آسٹریا کے شہر آم شٹَیٹن سے تعلق رکھنے والے یوزیف فرٹسل کے اپنی بیٹی کی آبروریزی کے نتیجے میں سات بچے پیدا ہوئے۔

فرٹسل پر عائد کردہ الزامات میں سے ایک 1996 میں پیدا ہونے والے ایسے ہی ایک بچے کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے ڈاکٹر سے رجوع نہ کرنے کے باعث نومولود کی موت ہونے پر اقدام قتل کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

وکیل استغاثہ کی جانب سے 73 سالہ ملزم یوزیف فرٹسل پر آبروریزی، غیر فطری تعلقات، جبری بندش، اقدام قتل اور کسی کو غلام بنا کر رکھنے کے سمیت دیگر الزام عائد کئے ۔ فرٹسل کا جرم ثابت ہونے کی صورت میں میں اسےعمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

DW.COM