1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عدالت نے شریف برادران کو نااہل قرار دے دیا

پاکستانی سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو نااہل قراردے دیا ہے اور ان کے حق میں دائر کردہ اپیلیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کوبھی کالعدم دے دیا گیا ہے۔

default

سابق وزیر اعظم پاکستانی اور مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف

اس فیصلے کے تحت نواز شریف کے بھائی میاں شہباز شریف اب نہ توپنجاب اسمبلی کے رکن رہے ہیں اور نہ وزیراعلیٰ پنجاب۔

اسلام آباد میں ملکی سپریم کورٹ کے جسٹس موسیٰ لغاری کی سربراہی میں جس تین رکنی بینچ نے شریف برادران کی انتخابی اہلیت سے متعلق کیس کی سماعت کی اس میں جسٹس شیخ حاکم علی اور جسٹس سخی حسین بخاری بھی شامل تھے۔

عدالت عظمیٰ نے بدھ کے روز اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ کے دلائل سننے کے بعد یہ فیصلہ ایک مختصر حکم کی صورت میں جاری کیا اور میاں نواز شریف کے خلاف سید خرم شاہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عدالت عظمیٰ اس معاملے میں دائر کی گئی تمام اپیلیں خارج کرتی ہے۔ اس سے قبل سماعت کے دوران جسٹس موسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’’ایک سزا یافتہ شخص پنجاب میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے۔‘‘

سپریم کورٹ نے شہباز شریف کی 2008 کے انتخابات میں کامیابی سے متعلق الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔

دوسری جانب نوازشریف نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئےاپنی پارٹی کے اہم رہنماؤں کو ہنگامی اجلاس کے لئےرائےونڈ طلب کر لیا ہے۔ فیصلے کے بعد ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل پر انٹرویو میں نوازشریف کا کہنا تھا کہ وہ اس عدلتی فیصلے سے پہلے ہی باخبر تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز 11مارچ کو عدلیہ کی بحالی کے لئے وکلاء تحریک کی جانب سے دی گئی لانگ مارچ کی کال کا ہر صورت بھرپور ساتھ دے گی۔