1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عدالت میں بریوک کا نازی سیلوٹ

ناروے میں قتل عام کرنے والے آندرس بیہرنگ بریوک نے آج منگل کے روز عدالت میں پیش ہوتے ہوئے ’نازی سیلوٹ‘ کیا۔ اس نے ناروے کی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔

آندرس بیہرنگ بریوک کو ناروے میں ستتر افراد کے قتل کے جرم میں اکیس برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ 2012ء میں مقدمے کی کارروائی شروع ہونے کے دوران وہ کئی مرتبہ نازی سیلوٹ کر چکا ہے۔ آج بھی عدالت میں داخل ہوتے ہی وہ اپنی داہنی مٹھی پہلے اپنے دل کے قریب لے گیا اور پھر نازیوں کی طرح اپنے ہاتھ کو آگے کی طرف پھیلا دیا۔

37 سالہ بریوک کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں سے اسے قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ دائیں بازو کے اس انتہا پسند نے اسی وجہ سے ملکی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس کا موقف یہ ہے کہ ایسا اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ عدالت میں پیشی کے وقت وہ سیاہ رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے تھا۔

بریوک کے وکیل کے مطابق یہ تنہائی اس کے مؤکل کو بری طرح متاثر کر رہی ہے،’’قید کے دوران اُس کی ایک اہم سرگرمی مطالعہ کرنا ہے، جسے بریوک نے اب ترک کر دیا ہے۔ میرے خیال میں تنہا رہنے کی وجہ سے اس کے ذہن پر منفی اثر پڑا ہے۔‘‘

ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالت نے اس سلسلے میں چار روزہ سماعت کا اعلان کیا ہے اور آج منگل کو اس سماعت کا پہلا دن تھا۔ یہ عدالتی کارروائی اسکیئن نامی جیل میں ہو رہی ہے، جو دارالحکومت اوسلو سے 130 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب واقع ہے۔ بتایا گیا ہے کہ قید کے دوران بریوک کی ای میلز کی نگرانی کی جاتی ہے جبکہ اسے صرف شیشے کے پیچھے سے ہی کسی کے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت ہے۔

بریوک کی جانب سے جولائی 2011ء میں کیے جانے والے بم دھماکوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد اس نے ایک قریبی جزیرے پر ایک یوتھ کیمپ میں اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے 69 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ مرنے والوں میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ عدالت کی جانب سے اگلے ماہ اس مقدمے کا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے اور اگر عدالت نے بریوک کو بدستور ایک خطرہ سمجھا تو اس کی سزا میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات