1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’عبد اللہ گل نے جرمن زبان کی اہمیت تسلیم کرلی‘

ترک صدر عبد اللہ گل نے جرمن صدر کرسٹیان وولف اور چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقاتوں میں یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت سمیت بین الاقوامی سیاست کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔

default

 

منگل کو برلن میں چانسلر انگیلا میرکل سے ہوئی ملاقات میں تارکین وطن کے انضمام، یورپی یونین میں شمولیت اور ترکی کی خارجہ سیاست سے متعلقہ امور زیر بحث رہے۔ برلن حکومت کے ترجمان اسٹیفن زائیبرٹ کے بقول اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تارکین وطن کے بہتر انضمام کے لیے جرمن زبان کی اہمیت کو تسلیم کیا۔

واضح رہے کہ ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن جرمنی میں مقیم ترک شہریوں سے کہہ چکے ہیں کہ وہ جرمن معاشرے میں ضم ہوں مگر تحلیل نہ ہوں۔ انہوں نے زور دیا تھا کہ ترک نژاد جرمن شہری اپنے بچوں کو جرمن زبان سکھانے سے قبل انہیں مادری زبان ترکی سکھائیں۔

جرمنی آنے سے قبل ترک صدر گل نے جرمن نشریاتی ادارے ZDF  کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جرمن امیگریشن قوانین پر تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین سے انسانی حقوق کی اس طرح خلاف ورزی ہو رہی ہے کہ جرمنی میں مقیم کوئی ترک نژاد شہری تب تک اپنی شریک حیات کو ترکی سے جرمنی نہیں بلا سکتا جب تک کہ وہ جرمن زبان نہ سیکھ لے۔

Präsident Gül Türkei Deutschland-Visite 2011

ترک اور جرمن صدر مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر

عبد اللہ گل ۱۸ ستمبر سے اپنی اہلیہ حور النساء کے ہمراہ جرمنی کے دورے ہیں اور وہ آج واپس ترکی لوٹ رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے تعلقات اس حوالے سے بھی خاصی اہمیت کے حامل ہیں کہ جرمنی میں قریب ساڑھے تین ملین ترک نژاد تارکین وطن آباد ہیں۔ منگل کو جرمن صدر کرسٹیان وولف کے آبائی شہر اوسنا بروک میں دونوں صدور کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے پرچم لیے کئی شہری ان کے راستے میں کھڑے تھے۔ عبد اللہ گل نے جرمن صدر کی جانب سے گزشتہ سال اُن کے آبائی ترک علاقے قیصری کے دورے کے بدلے میں یہ دورہ کیا۔

اسرائیل کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں سرد مہری بھی جرمن اور ترک قیادت کی ملاقاتوں کا ایک موضوع رہی۔ ترکی اور اسرائیل دونوں ہی خطے میں جرمنی کے قریبی حلیف تصور کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کا معاملہ گفتگو کا ایک اور اہم موضوع رہا۔ یہ معاملہ اب ایک بار پھر پیچیدہ صورت اختیار کر چکا ہے۔ ترکی نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین کی ششماہی صدارت قبرص کے سپرد کی گئی تو وہ یونین سے اپنے تعلقات منجمد کر دے گا۔ واضح رہے کہ قبرص پر یونان اور ترکی کا تنازعہ چل رہا ہے۔

یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کی راہ میں اس کی رکن ممالک سے جغرافیائی دوری، قدرے کمزور معیشت، انسانی حقوق کی صورتحال اور مذہبی امور سے متعلق معاملات حائل ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM