1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عبد الرحیم الکیب لیبیا کے نئے وزیر اعظم منتخب ہوگئے

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے تعلق رکھنے والے پروفیسر عبد الرحیم الکیب کو عبوری وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے طرابلس حکومت پر اسلحے کے کنڑول کے لیے زور دیا ہے۔

default

51 رکنی عبوری کونسل کے 26 ارکان نے عبد الرحیم الکیب کے حق میں ووٹ دیے۔ عبد الرحیم انجینیئر ہونے کے ساتھ ساتھ سیاست اور درس و تدریس سے متعلق امور سے منسلک ہیں۔ ان کے انتخاب کے لیے طرابلس میں صحافیوں کی موجودگی میں رائے شماری عمل میں لائی گئی۔ منتخب ہونے کے بعد عبد الرحیم نے کہا کہ عبوری مدت بہت سے امتحانات لیے ہوئے ہے، ’’اس دوران ہم عبوری قومی کونسل کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے اور لیبیا کی عوام کی رائے سنتے ہوئے کام کریں گے۔‘‘

نو منتخب وزیر اعظم نے سابق حکمران معمر القذافی کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں کو خراج عقیدت پیش کیا، ’’ ہم انقلابیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہم انہیں کبھی بھی نہیں بھلائیں گے۔ ہم ان کے اہل خانہ کو بھی نہیں بھلائیں گے۔‘‘ عبد الرحیم کے انتخاب سے قبل سابق عبوری وزیر اعظم محمود جبریل نے طے شدہ پروگرام کے مطابق، یعنی لیبیا کی باضابطہ آزادی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔

Befreiungsfeier in Libyen Flash-Galerie

سابق وزیر اعظم محمود جبریل

لیبیا کی عبوری کونسل نے ملک میں آٹھ ماہ کے اندر نئی دستور ساز اسمبلی کے لیے انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ نو منتخب وزیر اعظم عبد الرحیم نے اپنے خطاب میں اس مدت کے اندر اندر اہداف حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے لیبیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایسے میزائلوں کا پتہ لگاکر انہیں ضبط کرے جو کاندھے پر رکھ کر داغے جاسکتے ہیں۔ قذافی کے خلاف مزاحمت کے دوران یہ میزائل بڑی تعداد میں دیکھے گئے تھے۔ جرمن جریدے ’ڈیئر اشپیگل‘ نے نیٹو ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اب ایسے دس ہزار میزائل لاپتہ ہیں۔

Libyen Jubel in Sirte nach der Festnahme von Muammar al Gaddafi

لیبیا کے جنگجووں قذافی مخالف محاذ پر کامیابی کے بعد ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے

سلامتی کونسل نے ایک قرارداد میں ان میزائلوں کے القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ MANPADS یا مین پورٹ ایبل سرفیس ٹو ایئر میزائلز سے متعلق یہ قرارداد روس کی جانب سے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی اور متفقہ طور پر منظور ہوئی۔

واضح رہے کہ لیبیا کی عبوری کونسل نے ملک کے اندر کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا بھی دعویٰ کر رکھا ہے۔ سلامتی کونسل نے طرابلس حکومت پر زور دیا کہ وہ ان ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے سلسلے میں آرگنازئزیشن فار پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز سے تعاون کرے۔ اقوام متحدہ میں سفارتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ لیبیا سے بہت بڑی تعداد میں دستی ہتھیار سوڈان کے شورش زدہ دارفور خطے تک پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: شامل شمس

DW.COM