1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عبداللہ عبداللہ کا بائیکاٹ معمولی بات ہے : امریکہ

کابل میں موجود سفارتی حلقوں کے بقول دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی کے حریف امیدوار عبدللہ عبدللہ صداراتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیں گے۔

default

افغانستان میں صدارتی امیدوار عبدللہ عبدللہ اب سےکچھ دیر بعدانتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے سے متعلق اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کردیں گے۔ صدر حامد کرزئی کے حریف سابق وزیر خارجہ عبدللہ عبدللہ کی جانب سے افغانستان کے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ ادہر امریکہ نے عبدللہ کی جانب سے انتخابات کے ممکنہ بائیکاٹ کو معمول کی بات قراردیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی کے حریف امیدوار عبدللہ عبدللہ صداراتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیں گے۔ سابق وزیر خارجہ کی انتخابی مہم کی رکن ثابریینہ ثاقب کے بقول ''وہ آج اتوار کو اپنا فیصلہ سنا دیں گے کہ آیا وہ دستبرداری کا اعلان کریں گے یا پھر انتخابی عمل کا بطور احتجاج بائیکاٹ کریں گے۔ کیونکہ حکومت یا الیکشن کمیشن کی جانب سے ابھی تک یہ یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے کہ انتخابات میں دوبارہ دھاندلی نہیں ہوگی''

کابل میں موجود سفارتی حلقوں کے بقول دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کرزئی پر دباؤ بڑھانے کے لئے عبدللہ عبدللہ کا یہ ایک سیاسی حربہ ہے۔ افغان صداراتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے بعد سے ہی عبدللہ عبدللہ کی جانب سے کسی قسم کی انتخابی مہم دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

Geberkonferenz für Afghanistan

افغان صدر حامد کرزئی اور ان کے حریف عبدللہ عبدللہ فائل فوٹو

افغان آئین کے مطابق ایسا بھی ممکن ہےکہ ایک امیدوار، یعنی صدرحامدکرزئی کے ہوتے ہوئے انتخابی عمل مکمل کرلیا جائے۔ ایسی صورت میں بننے والی حکومت کی ساکھ سے متعلق آگے چل کر بہت سے سوالات پیدا ہونے کے خدشات ہیں۔

طالبان کے دہشت گردانہ حملوں، سخت سردی اور دھاندلی کے الزامات کی موجودگی میں غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد نہ صرف افغان حکومت بلکہ امریکی انتظامیہ کے لئے بھی ایک بڑا امتحان تصورکیا جا رہا ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بیس اگست کے افغان صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے انکشافات کے بعد صدر کرزئی کو دوبارہ انتخابی مقابلے کے لئے راضی کرنے میں مغربی طاقتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

اہم بات یہ اب عبدللہ عبدللہ کی جانب سے ممکنہ بائیکاٹ پر امریکہ کی جانب سے حیرت یا پریشانی کا اظہار نہیں کیا جارہا ہے۔ اس صورتحال سے متعلق پوچھےگئے ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا ''یہ کوئی نئی یا انہونی بات نہیں، ایسا دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہوتا رہا ہے، اس ممکنہ فیصلے کا صدارتی انتخاب کی ساکھ پرکوئی اثر نہیں پڑے گا''

Sicherheitslage in Afghanistan Konvoi

افغان سیکیوریٹی اہلکار انتخابات کے دوران ڈییوٹی پر مامور

اس غیر یقینی صورتحال کا ایک ممکنہ حل یہ دیکھا جارہا ہے کہ دونوں صدارتی امیدوار شراکت اقتدار کے کسی ایک معاہدے پر متفق ہوجائیں جو افغان عوام کو بھی قبول ہو۔

افغانستان میں سیاسی عدم استحکام کے بیچ امریکی صدر باراک اوباما اس تجویز پر غور کر رہے ہیں وہاں طالبان باغیوں کی سرکوبی کےلئے مزید ہزاروں فوجی روانہ کئے جائیں یا نہیں۔ اسی حوالے سے باراک اوباما نے جمعہ کو اعلیٰ امریکی فوجی قیادت سے ملاقات بھی کی۔

خیال رہےکہ اس شورش زدہ ملک کی اندرونی سیاسی صورتحال کا اثر افغانستان میں مزید غیر ملکی فوجی کی آمد کے فیصلےپر بھی پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ :شادی خان سیف

ادارت :عدنان اسحٰق