1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عبدالعزیز الحکیم کی میت ایران سے عراق پہنچا دی گئی

عراق کے ايک ممتاز شيعہ رہنما عبدالعزيز الحکيم کی ميت آج جمعہ کے روز ان کے آبائی وطن عراق پہنچا دی گئی ہے۔ الحکیم ايران ميں کافی عرصے سے زير علاج تھے۔ وہ دو دن پہلے 26 اگست کو وفات پاگئے۔

default

ساٹھ سالہ شيعہ رہنما الحکيم پھيپھڑوں کے کينسر ميں مبتلا تھے اور ان کا انتقال بدھ کو تہران ميں ہوا تھا۔ انديشہ ہے کہ عراق ميں انتخابات سے قبل ان کی موت سے سياسی عدم استحکام ميں مزيد اضافہ ہو جائے گا۔ عبدالعزيزالحکيم عراق کی سب سے بڑی شيعہ جماعت سپريم عراقی اسلامی کونسل کے قائد تھے۔

ان کی ميت آج ايک سرکاری طيارے ميں بغداد لائی گئی، جہاں ہوائی اڈے پر ايک تقريب ميں عراقی صدر جلال طالبانی، وزير اعظم نوری المالکی اور دوسرے سياسی رہنماؤں، قبائلی سرداروں اور عراق ميں امريکی اور برطانوی سفيروں نےشرکت کی اور عبدالعزيز الحکيم کے بیٹے عمار سے ان کے والد کی وفات پر تعزيت کی۔ عمار اپنے والد کے ممکنہ جانشين بھی ہیں۔

Irak schiitischer Politiker Al Hakim gestorben

عراق میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعزیز الحکیم کی ایک فائل فوٹو

الحکیم کی میت جب عراق پہنچی توايئر پورٹ پر موجود لوگ زار و قطار رو رہے تھے۔ عراقی صدر طالبانی نے اس موقع پر کہا کہ الحکيم ايک عظيم رہنما تھے اور انہوں نے عراق کے لئے جنگ کی تھی۔ عراقی شيعہ عرب وزير اعظم نوری المالکی نے کہا کہ الحکيم نے آمر صدام حسين کے خلاف جنگ ميں اہم کردار ادا کيا تھا۔

الحکيم نے سن1982ء ميں ايران ميں اپنی جلاوطنی کے زمانے ميں عراق ميں صدام کی سنی حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے ايک اپوزيشن تحريک کے قيام ميں حصہ ليا تھا۔ وہ سن 2003ء ميں عراق پر امريکی قبضے کے بعد عراق واپس آ گئے تھے۔

الحکيم کی سپريم عراقی اسلامی کونسل نے امريکی قبضے کے بعد ہونے والے پہلے صوبائی انتخابات ميں شيعہ علاقوں ميں شاندار کاميابی حاصل کی تھی ليکن اس سال جنوری ميں ہونے والے نئے انتخابات ميں ان کی پارٹی کو بہت نقصان برداشت کرنا پڑا۔

Trauerzug für Schiiten-Führer

نامور شیعہ عالم دین عبدالعزیز الحکیم کی وفات پر عراق میں عزاداران غم سے نڈھال ہیں

حالانکہ الحکيم ان عراقی رہنماؤں ميں سے ايک تھے، جن کے ايران کے ساتھ بہت زيادہ قريبی تعلقات تھے ليکن اس کے باوجود انہيں ايران کے سخت دشمن امريکہ سے تعلقات قائم کرنے ميں بھی کاميابی ہوئی تھی۔ سن 2006ء ميں انہوں نے واشنگٹن ميں صدر جارج بش سے ملاقات بھی کی تھی۔

الحکيم کی پارٹی سپريم عراقی اسلامی کونسل اور وزيراعظم نوری المالکی کی دعوہ پارٹی نے ايک وسيع شيعہ اتحاد کے طور پر سن 2005ء ميں انتخابات ميں زبردست کاميابی حاصل کی تھی ليکن پچھلے سال سے شيعہ گروپوں ميں ايک دوسرے سے اتحاد کے سلسلے ميں جاری کھينچا تانی ميں اضافہ ہوا ہے اور جہاں امريکی افواج عراق سے جانے کی تيارياں کر رہی ہيں، وہاں تشدد ميں اضافے کی وجہ سے عراق ميں سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے سلسلے ميں حاصل ہونے والی کاميابيوں کی پائيداری کے بارے ميں شکوک بڑھ رہے ہيں۔ آئے دن ہونے والے دھماکوں ميں زيادہ تر بے گناہ شہری ہلاک ہو رہے ہيں۔

آج بغداد کے شمال ميں ايک دھماکے ميں دو امريکی فوجی ہلاک ہو گئے۔اس طرح، سن 2003 ء ميں امريکی قبضے کے بعد سے عراق ميں ہلاک ہونے والے امريکی فوجيوں کی تعداد 4336 تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: امجد علی