1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عباس میرے امن کے پارٹنر ہیں: نیتن یاہو

آج دو ستمبر سے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بیس ماہ سے تعطل کی شکار اسرائیلی فلسطینی بات چیت میں فریقین ایک بار پھر آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ان کی میزبان امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن ہوں گی۔

default

عباس اورنیتن یاہو : فائل فوٹو

بدھ کو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی۔ بعد میں ان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں نیتن یاہو نے پہلی بار فلسطینی لیڈر محمود عباس کو اپنا امن پارٹنر قرار دیا۔ مبصرین کے خیال میں یہ مذاکرات کی ابتدا پر مثبت سوچ کا اظہار ہے۔ اس بیان میں انہوں نے فلسطینی قیادت کو متنبہ بھی کیا کہ امن کے سلسلے کا مخالفین کے سامنے بھی دفاع کرنا ضروری ہے۔ اس میں ان کا اشارہ غزہ پٹی پر حکومت کرنے والی انتہاپسند فلسطینی تنظیم حماس کی جانب تھا، جو مذاکراتی عمل کو تسلیم نہیں کرتی۔ حماس کی جانب سے مذاکرات کی شروعات پر کہا گیا کہ وہ ان کو سبوتاژ کرنے کے لئے اسرائیل اور یہودی عوام پر اگلے دنوں میں مزید حملے کرے گی۔

USA Barack Obama Mahmoud Abbas

امریکی صدر اور فلسطینی لیڈر بدھ کو ملاقات کے بعد

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ امن کے طلب گار ہیں تا کہ خطے میں تنازے کا خاتمہ ہو سکے اور امن اس لئے بھی کہ اگلی نسلیں سکون سے رہ سکیں۔ نیتن یاہو نے فلسطینی صدر محمود عباس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلی عوام نے اسی خطے میں رہنا ہے لہٰذا تنازعے کا خاتمہ ضروری ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عوام امن کے خواہشمند ہیں۔ اس بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم نے فلسطینی لیڈر محمود عباس کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

جمعرات دو سمتبر سے شروع ہونے والے مذاکرات سے قبل ملاقاتوں کے لئے امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ سے مصر کے صدر اور اردن کے فرمانروا کو بھی مدعو کر رکھا ہے۔ ان کے علاوہ اسرائیلی وزیر اعظم اور فلسطینی اتھارٹی کے لیڈر محمود عباس بھی واشنگٹن میں موجود ہیں۔ مصری لیڈر حسنی مبارک، اردن کے شاہ عبداللہ اور اسرائیلی اور فلسطینی لیڈران کے اعزاز میں بدھ کی شام امریکی صدر نے ایک عشائیے کا اہتمام بھی کیا۔

Washington Friedensgespräche Nahost Obama Netanyahu

اوباما اور نیتن یاہو بدھ کومشورت کرتے ہوئے

امریکی صدر نے ان تمام لیڈروں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں۔ اس مذاکراتی عمل کی دوبارہ شروعات پر عالمی برادری کے مشرق وسطیٰ کے لئے قائم چہار فریقی گروپ کے خصوصی نمائندے ٹونی بلیئر بھی واشنگٹن میں مدعو ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کے مطابق بدھ کو صدر اوباما کی مشرق وسطیٰ کے لیڈران سے ملاقاتوں کا بنیادی مقصد مذاکرات سے قبل اعتماد کی فضا قائم کرنا تھا تا کہ فریقین مثبت انداز فکر کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کر سکیں۔ امریکی صدر نے مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں چار اسرائیلی شہریوں کی حالیہ ہلاکت کے تناظر میں کہا کہ ایسی کارروائیوں سے امن مذاکرات کا سلسلہ روکا نہیں جا سکتا۔ اوباما نے اسرائیل اور فلسطین کے رہنماؤں سے کہا کہ امن کے اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔اسرائیلی فلسطینی مذاکرات آج جمعرات سے شروع ہوں گے اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن ان کی میزبانی کریں گی۔

مذاکرات سے قبل کی ایک اور اہم پیش رفت اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک کا یہ بیان ہے کہ اسرائیلی حکومت یروشلم کے بعض حصوں سے حتمی امن معاہدے کی صورت میں دستبردار ہو سکتی ہے۔ باراک کے مطابق مغربی یروشلم اور بارہ ملحقہ یہودی بستیاں یقینی طور پر اسرائیل کی ہیں۔ یروشلم کا عرب آبادی والا مشرقی علاقہ فلسطینیوں کا ہے۔ ایہود باراک کے یہ خیالات اسرائیلی روزنامے ’ہارِٹز‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس