1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عام افغان شہریوں کی ہلاکت، امریکی فوج کی تفتیش

جمعرات کے روز امریکی فوج نے اپنے ایک اعلان میں کہا ہے کہ اُس نے اپنے فوجیوں کے ہاتھوں قندھار میں تین عام افغان شہریوں کی غیر قانونی ہلاکت کے واقعےکی تفتیش شروع کر دی ہے۔

default

ابھی تک کسی فوجی پر فرد جرم تو عائد نہیں کیا گیا ہے تاہم کچھ فوجیوں کے خلاف الزامات ہیں کہ انہوں نے غیر قانونی منشیات کا استعمال بھی کیا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی فورسز نے جرائم کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی فوج نے ان تحقیقات کا آغاز پانچ مئی کو کیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اسے ایسی ’’ٹھوس معلومات‘‘ حاصل ہوئیں ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فوجی ممکنہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کے مرتکب ہوئے۔

ایک امریکی فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کو بتایا کہ زیرتفتیش ان فوجیوں کا تعلق سیکنڈ انفینٹری ڈویژن فیفتھ سٹرائیکر بریگیڈ سے ہے۔ اس دستے کو گزشتہ برس گرمیوں میں قندھار میں تعینات کیا گیا تھا۔

Afghanistan US Soldaten Flash-Galerie

حکام کے مطابق رواں برس جنوری اور مارچ کے درمیان چند افغان شہری اس علاقے میں مردہ پائے گئے تھے۔ یہ اعلان طالبان عسکریت پسندوں کے مرکز سمجھے جانے والے صوبے قندھار میں ممکنہ طور پر شروع ہونے والے امریکی فوجی آپریشن سے قبل سامنے آیا ہے۔ مبصرین کے خیال میں اس امریکی اقدام کا مقصد اتحادی فوج کے لئے مقامی افراد کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔

افغانستان میں امریکہ کی زیرقیادت متعین اتحادی افواج اور افغان حکومت کے درمیان عام شہریوں کی ہلاکت کا معاملہ کشیدگی کا باعث ہے اور صدر کرزئی متعدد مرتبہ اس حوالے سے امریکہ اور اتحادی ممالک کی افواج کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

کرزئی نے ابھی اپنے ایک حالیہ بیان میں امریکہ اور نیٹو افواج سے اپیل کی تھی کہ وہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں۔ رواں ماہ واشنگٹن میں صدر کرزئی نے امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد صدر اوباما نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ افغانستان میں ہونے والی شہریوں ہلاکتوں کے جوابدہ ہیں اور واشنگٹن ان ہلاکتوں کی روک تھام کے لئے تمام ممکنہ کوششیں کرے گا۔

رپورٹ: عاطف توقیر / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM