1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عامر لیاقت کے پروگراموں پر لبرل حلقوں میں تشویش کی لہر

پاکستان میں ایک نجی چینل کے اینکر کی طرف سے مبینہ اشتعال انگیز پروگراموں پر ملک بھر کے لبرل حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ان پروگراموں میں اینکر پرسن نے مبینہ طور پر پاکستانی معاشرے کی کئی نامور شخصیات پر ملک دشمنی، دہریت اور توہینِ رسالت کے الزامات لگائے ہیں۔ جن افراد پر الزامات لگائے گئے ہیں، ان میں سے کچھ نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کاعندیہ دیا کہ وہ متعلقہ اینکر پرسن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے جا رہے ہیں۔

س حوالے سے ڈوئچے ویلے کو اپنا موقف دیتے ہوئے سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا، ’’عامر لیاقت نے مختلف افراد پر مختلف نوعیت کے الزامات لگائے ہیں۔ کسی کو دہریہ کہا گیا ہے۔ کسی کو ’را‘ کا ایجنٹ یا ملک دشمن قرار دے دیا گیا ہے اور کسی پر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا ہے۔ان الزاما ت کی وجہ سے مجھے سوشل میڈیا پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔اس سارے معاملے پر حکومت کچھ نہیں کر رہی۔ لگتا ہے کہ وہ کمزور و لاچار ہے لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ میں حکومت کو اس ساری صورتِ حال سے بری الذمہ قرار دے رہا ہوں بلکہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے ۔ ایک شخص پاکستانی معاشرے میں سرِعام نفرت پھیلا رہا ہے۔ لوگوں کو تشدد پر اُکسا رہا ہے اور حکومت خاموش بیٹھی ہے۔ کیا حکومتی لوگوں کے گھروں میں ٹی وی نہیں ہیں۔ کیا ان کے پاس کیبل کے کنکشن نہیں ہیں۔ کیا ان کے گھر یہ چینلز نہیں آتے؟‘‘

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، صوبہٴ سندھ کے وائس چیئرمین اسد بٹ نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’میری سمجھ سے باہر ہے کہ پیمرا کس طرح اس شخص کو ایسے پروگرام کرنے دے رہا ہے، جن میں وہ لوگوں کو گالیاں دے رہا ہے۔ اُن کی کردار کشی کر رہا ہے۔ انہیں بدنام کر رہا ہے اور عوام کو اُن کے خلاف تشدد پر اُکسا رہا ہے۔ یہ شخص مذہبی منافرت پھیلا رہا ہے اور یہ سب کچھ ایجنسیوں کے ایماء کے بغیر نہیں ہو سکتا۔‘‘

Logo Pakistan Electronic Media Regulatory Authority PEMRA

نفرت انگیز پروگراموں کا ہدف بننے والے افراد پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے رجوع کر رہے ہیں

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ہم پیمرا جا رہے ہیں اور قانونی کارروائی کے لیے وکیلوں سے مشورہ بھی کر رہے ہیں اور جلد ہی عدالتوں میں مقدمات بھی دائر کیے جائیں گے۔ اس طرح کی گالیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح کی اشتعال انگیزی کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو آپ اس کو گرفتار کریں اور عدالتوں میں پیش کریں۔ اس طرح کے الزامات لگاناکہاں کا انصاف ہے۔‘‘

معروف صحافی و تجزیہ نگار اور ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری امتیاز عالم نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’یہ شخص سیاق و سباق سے ہٹ کر لوگوں کے کلپ دکھا رہا ہے۔ میں نے جو بات کہی، اُس کا ایک پس منظر تھا، جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے گلے نہیں کاٹے جانے چاہییں۔ اس کو معلوم نہیں کہ میرا گھرانا خود اولیاء سے وابستہ ہے۔ ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ اینکر مذہب کے نام پر نفرت پھیلا رہا ہے۔ یہ ملک کو انارکی کی طرف لے کر جا رہا ہے، جہاں مجمع انصاف کرے گا۔ جب سے اس نے مجھ پر اور میرے گھرانے پر پروگرام کیا ہے، مجھے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’صحافتی تنظیمیں بھی کیا کر سکتی ہیں، وہ خود بہت منقسم ہیں۔ اگر آپ عدالت میں اِن نفرت پھیلانے والوں کے خلاف مقدمہ کرتے ہیں، تو وہاں بھی مجمع پہنچ جائے گا اور لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جائے گا۔ ملک میں جمہوری اقدار اور رواداری پر یقین رکھنے والوں کے لیے زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔‘‘

Pakistan Ina Lepel und Absar Alam (DW Akademie)

ڈی ڈبلیو نے پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم (دائیں) سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اُن سے رابطہ نہ ہو سکا (بائیں جانب پاکستان میں جرمنی کی سفیر اِینا لیپل)

ڈی ڈبلیو نے متعدد مرتبہ پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ٹیلی فون کالوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ انہیں سوالات ایس ایم ایس کے ذریعے بھی بھیجے گئے لیکن ان کے بھی جوابات نہیں آئے۔ جب اِس حوالے سے پیمرا کے ترجمان محمد طاہر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ایک ایس ایم ایس کے ذریعے یہ کہا کہ چیئرمین صاحب ایک میٹنگ میں مصروف ہیں۔ تاہم پیمرا کے ایک ذمہ دار افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی کہ عامر لیاقت کے پروگرام کے خلاف متعدد شکایا ت موصول ہوئی ہیں۔

جب حکومتی موقف جاننے کے لیے نون لیگ کے ممتاز رہنما زعیم قادری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’جس چینل پر عامر لیاقت پروگرام کرتے ہیں، میں وہ چینل ہی نہیں دیکھتا اور میں نے یہ پروگرام بھی نہیں دیکھے تو میرے لیے کوئی بھی تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔‘‘