1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی یوم جمہوریت: ’پاکستانی جمہوریت کو دو اہم خطرات کا سامنا‘

آج منائے جانے والے عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر کئی پاکستانی سیاستدانوں نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوری نظام کو درپیش خطرات پرانے ہیں، جو ابھی تک ختم نہیں ہوئے اور پاکستانی جمہوریت کو اس وقت دو اہم خطرات کا سامنا ہے۔

پاکستان میں جمہوری سیاسی نظام آج 15 ستمبر کو منائے جانے والے انٹرنیشنل ڈے فار ڈیموکریسی کے موقع پر اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ کہاں کھڑا ہے، اس بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ملکی پارلیمان کے ایوان بالا کے رکن سینیٹر تاج حیدر نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ کسی بھی معاشرے میں جمہوریت ایک مسلسل عمل ہوتا ہے اور منتخب سیاسی قوتوں کی ہی مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔

سینیٹر تاج حیدر کے مطابق پاکستان میں جمہوریت کو درپیش اکثر خطرات کافی پرانے ہیں، جو آج بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق ان میں سے دو اہم خطرات 'اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں دخل اندازی اور شدت پسند گروپوں کا قومی سطح پر اثر و رسوخ‘ ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے اس رہنما نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ''نمائندہ سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر ایک لائحہ عمل تشکیل دینا ہو گا، جس کے تحت اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو محدود کرنا اور شدت پسند قوتوں اور ان کے سیاست اور معاشرے میں تشدد کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اس کے بغیر پاکستان میں مکمل اور پائیدار جمہوریت ممکن نہیں ہو گی۔‘‘

اس وقت پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین سے جب ڈوئچے ویلے نے جب پوچھا کہ پاکستانی جمہوریت میں فی الوقت کیا خامیاں پائی جاتی ہیں، تو انہوں نے کہا کہ پاکستانی جمہوریت میں کوئی خاص خامیاں نہیں ہیں بلکہ اصل مسئلہ ماضی میں جمہوری ادوار کا بار بار غیر سیاسی قوتوں کی طرف سے معطل کیا جانا رہا ہے۔ شہاب الدین کے مطابق جمہوری تسلسل کی خاطر پچھلے چند برسوں سے حکومت اور اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے پر مثبت تنقید کے ذریعے ایک دوسرے سے سیکھنے کے جس عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں، وہ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی میں بہت معاون رہا ہے اور آئندہ بھی مددگار ثابت ہو گا۔

جمہوریت ہی پاکستان کے مسائل کا حل ہے اور جمہوریت ہی پاکستان کا مستقبل ہے

جمہوریت ہی پاکستان کے مسائل کا حل ہے اور جمہوریت ہی پاکستان کا مستقبل ہے، بُشریٰ گوہر

پاکستان کی وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں کے اس رکن نے ڈی دبلیو کو بتایا کہ جب تک سیاسی جماعتیں مضبوط ہیں، جمہوریت کو کمزور کرنا آسان نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ قومی الیکشن کا اگلا مرحلہ بھی جمہوری استحکام میں معاون ہو گا۔ شہاب الدین نے کہا، ''جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد ہی کا نام نہیں بلکہ یہ عوامی مسائل کے حل کے لیے بہترین نظام ہے۔ مسلم لیگ نون جمہوریت پر پختہ یقین رکھتی ہے اور اس نے ہمیشہ جمہوریت کو مستحکم بنانے کی کوشش کی ہے۔‘‘

اسی بارے میں عوامی نیشنل پارٹی کی سابقہ ایم این اے بشریٰ گوہر سے جب یہ پوچھا گیا کہ پاکستان میں جمہوریت اس وقت کہاں کھڑی ہے، تو انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان میں کئی سیاسی دور آئے اور ان سب کی تاریخ سے نتیجہ ایک ہی نکلا: ’’جمہوریت ہی پاکستان کے مسائل کا حل ہے اور جمہوریت ہی پاکستان کا مستقبل ہے۔‘‘

بشریٰ گوہر نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ''ہمارے ملک میں ابھی تک جمہوریت مضبوط نہیں ہوئی۔ سن دو ہزار تیرہ کے الیکشن سے اب تک جمہوری نظام کمزوری کی طرف گیا ہے۔ ہمیں دھرنوں اور لڑائی کی سیاست کے بجائے تصفیے کی سیاست کی طرف آنا ہو گا۔ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو سیاست کا مرکز بنانا ہو گا اور سیاست میں خواتین کے کردار کو بھی وسیع اور مستحکم بنانا ہو گا۔‘‘

پاکستان میں جمہوریت کے بارے میں ملک کی سب سے بڑی اور پرانی مذہبی سیاسی جماعتوں میں سے ایک، جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ جمہوری مضبوطی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت قائم ہے، قومی پارلیمان اور صوبائی اسمبلیاں موجود ہیں، سبھی منتخب ادارے بطریق احسن کام کر رہے ہیں اور ان میں نمائندگی کی حامل جماعتیں بھی اپنا اپنا جمہوری کردار ادا کر رہی ہیں۔

صاحبزادہ طارق اللہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستانی جمہوری نظام میں بطور سسٹم کوئی خامیاں نہیں ہیں لیکن انفرادی طور پر کچھ سیاستدانوں کے رویوں اور احساس ذمہ داری میں کمی بیشی ضرور پائی جاتی ہے، جن کی وجہ سے بعض اوقات جموریت کمزور پڑ جاتی ہے۔ طارق اللہ نے کہا، ''تمام سیاسی جماعتوں کو اس بات کا ادراک ہے۔ جمہوریت یقینی بنانے کے لیے اس وقت ایک پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات ایک ایسی جامع آئینی ترمیم کی تیاریوں میں ہے، جس سے انتخابی نظام میں کمزوریوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور جمہوریت کو مزید مضبوط اور پائیدار بنایا جا سکے گا۔‘‘

معروف سیاسی تجزیہ نگار شفقت محمود نے اس موضوع پر ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں نہ صرف جمہوریت ہے بلکہ وہ آگے بھی بڑھ رہی ہے اور عوام کی خواہش بھی یہی ہے، ''البتہ جن شعبوں میں بہتری کی گنجائش ہے، وہ ہیں حکومت کی کارکردگی اور حکومتی اداروں کا کارآمد ہونا۔‘‘

شفقت محمود کے مطابق اچھی حکمرانی کے لیے سرکاری اداروں کی بہتر کارکردگی ضروری ہوتی ہے، ''مثال کے طور پر پاکستان میں ٹیکس مشینری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو ہر سطح پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ جمہوری عمل کا فائدہ جمہوریت پسند عوام تک پہنچے بھی۔‘‘

جمہوریت کو درپیش دو اہم خطرات اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں دخل اندازی اور شدت پسند گروپوں کا قومی سطح پر اثر و رسوخ ہیں، سینیٹر تاج حیدر

جمہوریت کو درپیش دو اہم خطرات اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں دخل اندازی اور شدت پسند گروپوں کا قومی سطح پر اثر و رسوخ ہیں، سینیٹر تاج حیدر

ایک اور سیاسی تجزیہ نگار خیام مشیر نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت میں اس حوالے سے کہا کہ جمہوریت صرف عمل تک محدود نہیں ہوتی بلکہ نتائج سے پرکھی جاتی ہے۔ جمہوریت صرف انتخابی طریقہ کار تک ہی محدود نہیں ہوتی۔ پاکستان میں انتخابات تو ہوتے رہتے ہیں اور پارلیمنٹ بھی وجود میں آتی رہتی ہے۔ لیکن ایک اہم پیمانے پر یعنی جمہوریت کو قانون سازی کی سطح پر دیکھا جائے، تو پتہ چلتا ہے کہ نتائج کے حساب سے جمہوریت اپنے پورے فائدے عوام تک نہیں پہنچا پا رہی۔

خیام مشیر کے بقول، ''جمہوریت تب مضبوط ہو گی، جب وہ مفید بھی ہو گی۔ ایسا اسی وقت ممکن ہے، جب عوام اور ان کے بنیادی مفادات کے نمائندہ گروپوں کا رابطہ اور اثر و رسوخ منتخب پارلیمانی ارکان پر زیادہ ہو گا۔ جمہوریت کی مضبوطی عوامی ترجیحات اور مفادات کے تحفظ سے مشروط ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کی طرف سے ہر سال بین الاقوامی یوم جمہوریت پندرہ ستمبر کو منایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ سن دو ہزار آٹھ میں شروع ہوا تھا۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر کے معاشروں میں جمہوری نظام کے بارے میں عوامی شعور میں اضافہ ہے۔

آج جمعرات پندرہ ستمبر کو منائے جانے والے عالمی یوم جمہوریت دو ہزار سولہ کا موضوع ہے: جمہوریت اور پائیدار ترقی کے لیے سن دو ہزار تیس کا ایجنڈا۔ اس مناسبت سے آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے جمہوریت کے فروغ کے لیے مختلف تقریبات کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔

عصمت جبیں

اسلام آباد