1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

عالمی یوم ایڈز، پاکستان میں ایک لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر

آج یکم دسمبر کو دنیا بھر میں ایچ آئی وی (ایڈز) کے مہلک مرض سے بچاؤ کا دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 کروڑ 40 لاکھ ہے۔

default

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مہلک مرض کی روک تھام کے سلسلے میں دنیا نے گزشتہ سال نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن عالمی سطح پر اس مرض کے خاتمے کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا ضروری ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ایچ آئی وی کا وائرس غیر محفوظ جنسی ملاپ، انجکشن کے ذریعے نشہ آور ادویات کے استعمال اور دیگر ذرائع سے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد قوت مدافعت پر حملہ آور ہوتا ہے جس کے بعد متاثرہ شخص میں مختلف بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور یوں وہ آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی بڑی تعداد موجود ہے۔

Erdbeben Pakistan - Behandlung von Verletzten

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق اس وقت ملک میں ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق اس وقت ملک میں ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ معاشرتی مسائل کی وجہ سے بہت سے لوگ اس بیماری کی تشخیص ہونے کے بعد اپنے نام کا اندراج کروانے سے گھبراتے ہیں۔

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر ساجد نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں میں ایڈز سے متعلق شعور اور آگاہی کی کمی کی وجہ سے یہ مرض گزشتہ چند سالوں میں تیزی سے پھیلا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یقینی طور پر ایچ آئی وی کی وباء بڑھ رہی ہے۔ ہمارے پاس مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایچ آئی وی کے علاج کے لیے ہمارے جو مختلف سینٹرز ہیں ان میں درج کئے گئے مریضوں کی تعداد 97 ہزار 4 سو ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جن مریضوں میں ایڈز کے مرض کی تصدیق ہو چکی ہے ان کی تعداد 22 سو ہے۔

ڈاکٹر ساجد کا کہنا ہے کہ ایڈز کا علاج مہنگا ہونے کے سبب اس کے لیے غیر ملکی فنڈنگ کی ضرورت پڑتی ہے تاہم ورلڈ بینک اور برطانوی امدادی ادارے DFID نے امداد دینے کا جو وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک ہمیں موصول نہیں ہوئی جس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

Symbolbild Flüchtlinge Tschad Kinder

اکثر افریقی ملکوں میں لاعلمی اور غیر محفوظ جنسی تعلقات کے باعث ایچ آئی وی وائرس کے شکار افراد کی تعداد کافی زیادہ ہے

اقوام متحدہ کی ایڈز کے عالمی دن کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق حکومتوں اور امدادی تنظیموں کی جانب سے کٹوتیوں کے باعث عالمی سطح پر ایچ آئی وی ایڈز سے مقابلے کی مہم کو گزشتہ برس قریب ایک ارب ڈالر کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایڈز کنٹرول پروگرام سے وابستہ ڈاکٹر احسان خان کا کہنا ہے کہ سندھ میں بھی ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ان میں زیادہ تعداد مرد حضرات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ کا ایک بڑا سبب بیرون ملک کام کرنے والے افراد ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ایڈز پھیلنے کی ایک بڑی وجہ بیرون ملک کام کرنے والے محنت کشوں کی ہے جو متحدہ عرب امارات وغیرہ یا دوسرے ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں خاص طور پر ٹرک ڈرائیور اور مزدوری کرنے والے افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جہاں بہت سے لوگ اکٹھے رہتے ہیں، ان میں بھی یہ انفیکشن پایا جاتا ہے۔‘‘

دریں اثناء حکومت پاکستان نے ایڈز کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مذہبی رکاوٹوں کو ہٹانے کے سلسلے میں بعض علماء سے بھی تعاون حاصل کر رکھا ہے، جو مختلف مساجد اور دیگر مذہبی اجتماعات میں ایڈز کے پھیلاؤ اور روک تھام کے لیے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: حماد کیانی

DW.COM