1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

عالمی یوم آب: آلودہ پانی پاکستان میں بھی ایک بڑا مسئلہ

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 22 مارچ کوعالمی یوم آب منایا جاتا ہے۔ اس سال اس دن کا موضوع ’آلودہ پانی‘ ہے تاکہ ایسے پانی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا سکے۔ 

اس دن کو منانے کا مقصد نہ صرف صاف پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے بلکہ اسے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دینا بھی ہے۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں پہلے ہی مجموعی قومی آمدنی کا سب سے کم حصہ صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سرفہرست ہے، جہاں پانی کا بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اگر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پانی کی فراہمی کی صورتحال دیکھی جائے، تو پاکستان کے اس اقتصادی مرکز اور سب سے زیادہ آبادی والے اس شہر کو اس وقت یومیہ 1100 ملین گیلن پانی کی اشد ضرورت ہے جبکہ اس کو ملنے والے پانی کی مقدار صرف 550 ملين گيلن روزانہ ہے۔ اس بات کی تائید کراچی کے ڈپٹی میئر ڈاکٹر ارشد وہرہ بھی کرتے ہیں۔ پھر کراچی کو ملنے والے اس پانی میں مزید کمی بھی آئندہ آنے والے دنوں میں متوقع ہے کیونکہ حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق سندھ میں آئندہ ہفتے میں پانی کا بحران شدت اختیار کر جائے گا۔ کوٹری بیراج جو کہ کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے چھ اضلاع کو پانی فراہم کرتا ہے، وہاں پانی کا بہاؤ محض ایک ہزار کیوسک فٹ رہ جائے گا جو کہ سن 2005 کے بعد سے اب تک کی کم ترین سطح ہو گی۔ پانی کی فراہمی میں کمی کے سبب سندھ کے چھ اضلاع کو کاشت کاری اور گھریلو اور صنعتی استعمال کے لیے پانی کی شدید ترین قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

پاکستان میں پانی کی کمی کےعلاوہ اس کا معیار بھی انتہائی پست ہے اور عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق پاکستان کی صرف 15 فیصد آبادی کو پینےکا صاف پانی ملتا ہے۔ دوسری جانب واٹر ایڈ پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 16 ملین افراد کو صاف اور محفوظ پانی تک رسائی حاصل نہیں۔ آلودہ پانی کے باعث پھیلنے والی بیماریوں خصوصاً اسہال سے سالانہ 39 ہزار بجے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جبکہ ہیضے اور دیگر بیماریوں سے ہلاک ہو جانے والے صرف بچوں ہی کی تعداد 52 ہزار بنتی ہے۔

صاف پانی کی فراہمی کے معاملے پر ایک بار پھر ملک کے اقتصادی مرکز پر نظر ڈالی جائے، تو سامنے آتا ہے کہ کراچی میں حب ڈیم اور دریائے سندھ سے پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں کراچی کے چند اضلاع میں شہریوں کو ملنے والے پانی کے کچھ نمونے پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز نے ٹیسٹ کیے۔ 

ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے اس کونسل کے سینیئر ریسرچ افسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے کہا کہ اس ٹیسٹ سے ملنے والے نتائج کے مطابق شہر کو ملنے والا پانی پینے کے قابل ہر گز نہیں، ’’پانی کی چانج سے سامنے آیا کہ کراچی کو ملنے والے تقریباً 70 فیصد پانی میں مائیکرو بیالوجیکل آلودگی شامل تھی۔ گو کہ اس میں کسی کیمیکل کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے تاہم مائیکرو بیالوجیکل آلودگی بھی انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ اس مائیکرو بیالوجیکل آلودگی میں 30 فیصد تک فضلے کے ذرات بھی پائے گئے۔ اس کے علاوہ اس میں E.Coli نامی وائرس بھی پایا گیا۔‘‘

 ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے بتایا، ’’جن علاقوں کے پانی میں مائیکرو بیالوجیکل آلودگی پائی گئی، ان میں سائٹ، اورنگی اور کورنگی اور ان سے متصل کچی آبادیاں بھی شامل ہیں۔ اول تو یہاں پانی کی فراہمی اور تقسیم کا کوئی خاطر خواہ انتظام ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو اس میں سیوریج کے پانی کی ملاوٹ بڑی مقدار میں پائی گئی۔ اس کے علاوہ کچھ آبادیوں میں لوگوں نے پانی کے غیر قانونی کنکشن بھی لیے ہوئے ہیں، اس طرح بھی اس پانی میں سیوریج کا پانی شامل ہو جاتا ہے۔‘‘

پانی میں مناسب مقدار میں کلورین ملانے اور اسے استعمال کے قابل بنانے کے لیے ڈاکٹر غلام مرتضیٰ کے مطابق مزید اقدامات کی ضرورت ہے، ’’ہمارے پاس جو ذرائع موجود ہیں، ان سے مکمل طور پر استفادہ نہیں کیا جا رہا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں نہ صرف استعمال کیا جائے بلکہ شہر کی  بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے لحاظ سے نئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ بھی لگائے جائیں۔‘‘

کراچی میں مزید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی ضرورت کی تصدیق ڈپٹی میئر ڈاکٹر ارشد عبداللہ وہرہ بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’صاف پانی کی فراہمی اور واٹر ٹریٹمنٹ کراچی کا اہم مسئلہ ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ انڈسٹریل ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے پر توجہ دی جائے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ پورے شہر کا سیوریج نظام تبدیل کرے تاکہ K-4 منصوبے کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔ پانی اور سیوریج کی لائنیں آپس میں مل رہی ہیں، جس سے پیٹ کی بیماریاں بڑھ گئی ہیں۔ بچے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت ہماری مدد کرے۔‘‘

دوسری جانب پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے جہاز رانی و بندرگاہوں نے بھی حالیہ دنوں میں انکشاف کیا ہے کہ کراچی کے سمندر میں یومیہ پچاس کروڑ گیلن آلودہ پانی گرنے سے نہ صرف آبی حیات تباہ ہو رہی ہے بلکہ اس کے مضر اثرا ت سے انسان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے سینیٹر تاج حیدر  نے بتایا کہ حکومت سند ھ نے سیوریج کے پانی کو صاف کرنے کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے جبکہ دو پلانٹ کام کر رہے ہیں۔