1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی یوم آبادی پر آبادی سے متعلقہ معاملات و مسائل کا جائزہ

اقوامِ متحدہ کے زیر اہتمام جمعہ گیارہ جولائی کو 20 ویں مرتبہ عالمی آبادی کا دن منایا جا رہا ہے۔ آج مختلف اجتماعات میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ آج کل دُنیا کی نصف آبادی شہروں میں رہ رہی ہے۔

default

عالمی آبادی میں اضافہ خوراک کےسنگین مسائل کا باعث بن رہا ہے۔

ایک ارب سے زیادہ آبادی والے ممالک چین اور بھارت کو خاص طور پر مشکل حالات کا سامنا ہے۔ بھارت کی آبادی مئی سن دو ہزار میں سرکاری طور پر ایک ارب کی حد کو پار کر گئی تھی۔ اب سن 2008ء میں یہ تعداد ایک اعشاریہ ایک ارب بتائی جاتی ہے۔ تقریباً کم شرحِ پیدائش کے ساتھ سن 2050ء تک بھارت کی آبادی بڑھ کر 1,7ارب سک پہنچ جائے گی، یعنی تب کرہ ارض کا ہر چھٹا شخص کوئی بھارتی باشندہ ہو گا۔

Kind auf einer Mülldeponie in Indien

بھارتی شہر بنگلور میں ایک بچہ کوڑے کے ڈھیر میں سے کچھ تلاش کرتے ہوئے۔

یہ صورتِ حال بھارتی ریاست کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ آبادی میں اضافے کا مطلب ہے، تعلیم و تربیت کے زیادہ مواقع کے ساتھ ساتھ زیادہ مقدار میں خوراک، پانی اور توانائی کی بھی فراہمی۔ آبادی میں اضافے کو روکنے کی حکومتی کوششوں کے نتیجے میں اضافے کی شرح چار فی صد سے کم ہو کر 1,6فیصد تو ہو گئی ہے لیکن لڑکیوں کی بجائے لڑکوں کی خواہش زیادہ ہونے کی وجہ سے اب ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، جیسا کہ بتاتے ہیں، بون یونیورسٹی کے ایشیائی علوم کے ادارے سے وابستہ، Heinz Werner Wessler۔

’’یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی میں اَسقاطِ حمل کا کردار اتنا زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ بھارت کے کئی اضلاع میں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران جنسی تناسب یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے پر صرف سات سو پچاس لڑکیاں ہیں۔ گویا کہیں کوئی بنیادی خرابی موجود ہے۔‘‘

Die 94jährige Yukie Uchida aus Japan bei den Tischtennis-Weltmeisterschaften der Veteranen in Bremen BdT

جاپان کے عمر رسیدہ افراد بزرگی میں بھی چاق و چوبند رہتے ہیں۔ اِس تصویر میں 94 سالہ یُوکی اُشیڈا عمر رسیدہ افراد کی ٹیبل ٹینس عالمی چیمپئن شپ کے ایک مقابلے میںکھیل رہی ہیں۔ ُن کے مدمقابل ہیں ، آسٹریلیا کی 95 سالہ ساتھی کھلاڑی ڈوروتھی ڈے لاؤ۔

گو بھارت میں آج بھی 70 فیصد آبادی دیہات میں ہے لیکن شہروں کی طرف نقل مکانی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت کے تین درجن شہروں کی آبادی ایک ملین سے زیادہ ہے۔ بھارت کے برعکس بہت سے صنعتی ملکوں کی آبادی میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ آج کل جاپان کی آبادی 127 ملین ہے لیکن سن 2050ء میں کم ہو کر محض 95 ملین رہ جائے گی۔ معاشرے میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں ابھی سے تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹوکیو کی کائیو یونیورسٹی کے پروفیسر Atsushi Seike بتاتے ہیں:

’’ آئندہ سات برسوں کے اندر اندر یعنی سن 2014ء تک ایک چوتھائی جاپانی باشندے ایسے ہوں گے، جن کی عمریں 65 سال سے زیادہ ہوں گی۔‘‘

اِس کے برعکس امریکہ میں 65 برس سے زیادہ عمر کے شہریوں کی فی الوقت تعداد صرف بارہ فیصد ہے۔ امریکہ اُن صنعتی ممالک میں سرِ فہرست ہے، جن کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ وہاں کی آبادی میں ہر سال ایک فیصد کی شرح سے اضافہ ہو جاتا ہے۔ اِس کی وجہ وہ 1,2 ملین تارکینِ وطن بھی ہیں، جو ہر سال قانونی یا غیر قانونی طور پر امریکہ پہنچ جاتے ہیں۔