1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

عالمی کپ ہاکی 2010ء اور سیکیورٹی خدشات

اٹھائیس فروری سے بھارت میں شروع ہونے والے عالمی کپ ہاکی سے قبل پونے میں ہوئے ایک بم دھماکے کے بعد کئی ممالک نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم بھارتی حکام نے کھلاڑیوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔

default

بھارت میں ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کے خوف کی وجہ سے عالمی ہاکی کپ سن 2010 ء میں حصہ لینے والے کئی ممالک نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم بھارتی وفاقی وزیر داخلہ پی چدم برم نے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو مناسب تحفظ فراہم کریں گے۔

ایشیا ٹائمز نامی ایک آن لائن اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں حرکت الجہاد الاسلامی نامی جنگجو گروہ سے دھمکی آمیز پیغام ملا ہے کہ اگر غیر ملکی کھلاڑیوں نے بھارت کا رخ کیا تو اس کے نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ اس انتہا پسند گروہ کے رہنما الیاس کشمیری کی طرف سے جاری کردہ مبینہ پیغام میں کہا گیا: ’’ ہم بین الاقوامی کمیونٹی کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ عالمی کپ ہاکی سن 2010ء، انڈین پریمئر لیگ IPL اور کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لینے کے لئے اپنے اپنے کھلاڑیوں کو بھارت نہ بھجیں۔۔۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے‘‘۔

اخبار نے کہا کہ الیاس کشمیری کی طرف سے یہ میل انہیں پونے بم دھماکے کے دو دن بعد موصول ہوئی۔

دریں اثناء نیوزی لینڈ کی ہاکی ٹیم نے عالمی ہاکی کپ میں شرکت کے لئے اپنا دورہ بھارت موخر کر دیا ہے۔ ٹیم کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ بھارت میں سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی اپنی ٹیم روانہ کریں گے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم اس وقت آسٹریلیا میں ہے جہاں وہ پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہے۔

Hockey Deutschland Pakistan in Köln

جرمن ٹیم اس ٹورنامنٹ میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرے گی

نیوزی لینڈ اولمپک کمیٹی کےرکن مائیک اسٹینلے نےکہا:’’ بھارتی سرکار سیکیورٹی کا جائزہ لے رہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے کھلاڑی نئی دہلی میں کس حد تک محفوظ رہیں گے۔ تاہم اسٹینلے نے کہا کہ ابھی تک جو اطلاعات انہیں موصول ہوئیں ہیں اس کے مطابق سیکیورٹی کے انتظامات مناسب ہیں۔

دوسری طرف آسٹریلیا ہاکی ٹیم نے کہا کہ دہشت گردی کے خوف سے ان کی ٹیم بھارت کا دورہ منسوخ نہیں کرے گی۔ ٹیم کے کوچ رک چارلس ورتھ نے تاہم کہا کہ وہ سیکورٹی کا مکمل جائزہ لیں۔ :’’ کھلاڑی عالمی کپ میں حصہ لینا چاہتے ہیں لیکن جب کھلاڑیوں کے رشتہ دار، اخباروں میں ممکنہ دہشت گردانہ کارراوئیوں کے بارے میں پڑھتے ہیں تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ ‘‘

ادھر بھارتی حکام نے کہا ہےکہ کھیلوں کے کامیاب انعقاد کے لئے انہوں نے مناسب اقدمات کئے ہیں اورکسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے وہ تیار ہیں۔ بھارت میں عالمی ہاکی کپ اٹھائیس فروری سے تیرہ مارچ تک منعقد کیا جائے گا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: کشور مصطفےٰ

DW.COM