عالمی کپ میں شمولیت کے لیے تیار ہیں، اظہر علی | کھیل | DW | 06.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

عالمی کپ میں شمولیت کے لیے تیار ہیں، اظہر علی

ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک روز میچوں میں کلین سوئیپ کے بعد ٹیم کے کپتان اظہر علی نے کہا ہے کہ ٹیم نے ہر شعبے میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سیریز کے بعد ٹیم کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک روزہ میچوں کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم 2019ء کے عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اظہر علی کے مطابق ویسٹ انڈیز کے خلاف فتح سے ٹیم کا حوصلہ بلند ہوا ہے، ’’یہ ایک انتہائی اہم سیریز تھی اور ہمارے لیے دیگر چیلنجز کا آغاز بھی۔‘‘ ان کے بقول پاکستان کی ٹیم کو اپنی کارکردگی پر مزید توجہ دینا ہو گی اور اسی طرح بہتری لانا ہو گی کیونکہ 2019ء کے عالمی کپ میں کوالیفائی کرنے کے حوالے سے ابھی تقریباً ایک سال باقی ہے۔‘‘

پاکستان نے گزشتہ روز ہی ابو ظہبی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری سیریز میں اپنا آخری میچ ون ڈے کھیلا  اور سیریز تین صفر سے جیت لی۔ اس میچ میں پاکستان نے مہمان ملک کو 136رنز سے شکست دی۔ اس طرح اب پاکستانی ٹیم ایک روزہ میچوں کی عالمی درجہ بندی میں نویں سے آٹھویں نمبر پر آ گئی ہے۔

اگلے ورلڈ کپ کا میزبان ملک انگلینڈ ہے۔ تیس ستمبر 2018ء تک عالمی درجہ بندی میں سات بہترین ٹیمیں براہ راست عالمی کپ کھیلیں گی جبکہ اس فہرست کی آخری چار ٹیمیوں کو دیگر چھ ایسوسی ایٹ ٹیموں کے ساتھ مل کر کوالیفائنگ راؤنڈز کھیلنا پڑے گا اور ان میں سے دو بہترین ٹیموں کو عالمی کپ میں شامل کیا جائے گا۔ 2015 ء کے عالمی کپ کے بعد بنگلہ دیش نے پاکستان کو تین صفر سے شکست دی تھی، اس کے بعد ایک روز سیریز میں انگلینڈ اور پھر نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستانی ٹیم نویں نمبر پہنچ گئی تھی۔

کپتان اظہر علی نے اس موقع پر خاص طور پر اوپنر بابر اعظم کا ذکر کیا، جنہوں نے تین میچوں میں تین سنچریاں اسکور کیں، ’’بابر اعظم نے انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔‘‘ بابر اعظم نے تین اننگز میں بالترتیب 120 ,123 اور 117 رنز اسکور کیے۔ علی نے مزید کہا کہ اس کامیابی میں ٹیم کے نئے کوچ مکی آرتھر کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

پاکستان اب اگلے برس کے آغاز میں آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ سیریز کھیلے گی۔ اس تناظر میں علی کا کہنا تھا، ’’ہم آسٹریلیا میں آسٹریلیا کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘