1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

عالمی کپ میں شرکت کا خواب لئے افغان کرکٹ ٹیم پاکستان میں

عالمی کرکٹ کپ کھیلنے کا خواب آنکھوں میں سجائے افغانستان کی کرکٹ ٹیم ان دنوں پاکستان کے تربیتی دورے پر ہے۔

default

بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کی طرح ہی افغانستان کی ٹیم بھی دنیائے کرکٹ میں کچھ حاصل کرنا چاہتی ہے

افغان ٹیم نے تین ماہ قبل تنزانیہ میں عالمی کرکٹ کونسل ورلڈ کرکٹ لیگ ڈویژن 4 جیت کر دنیائے کرکٹ کو حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔

اب افغانستان کی ٹیم کو رواں ماہ ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ہونے والی ورلڈ کرکٹ لیگ ڈویژن 3 میں شرکت کرنا ہے، جہاں فتح کی صورت میں اس کے لئے برصغیر میں2011 میں ہونے والےعالمی کپ میں شرکت کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ بیونس آئرس ایونٹ کی تیاری کے لئے افغانستان کی ٹیم آج کل پاکستانی شہر لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ہے۔

Sicherheitsmaßnahmen für das Cricketspiel Indien gegen Pakistan

پاکستانی شہر لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پولیس اہلکار سیکیورٹی چیک میں مصروف

افغان کرکٹ ٹیم کے کوچ کبیرخان نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عاقب جا وید، راشد لطیف اور باسط علی جیسے سٹار پاکستانی کرکٹرز کی کوچنگ اور تجربے سے افغان کھلاڑیوں کے کھیل میں نکھار آئے گا۔ کبیر خان کے مطابق افغانستان کے کھلاڑیوں میں صلاحیت اور ہُنر کی کمی نہیں ہے بلکہ اسے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے لئے محض ذہنی طور پر تیار ہونے کا سبق سیکھنا ہے، اوراس حوالے سے افغان ٹیم کا دورہء پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ’’ یہ دورہ کافی کار گر ثابت ہورہا ہے۔‘‘

افغان ٹیم کے کوچ کبیر خان نے چار ٹیسٹ میچوں اور10ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

Shoaib Akhtar, Pakistan

اگر پاکستان کے پاس راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر ہیں تو افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو اپنے فاسٹ بولر حمید حسن سے کافی توقعات وابستہ ہیں

کبیر خان نے مزید بتایا کہ افغانستان کی ٹیم کوجلال آباد سے تعلق رکھنے والے تیز گیندباز حمید حسن اور دولت خان کی خدمات حاصل ہیں۔ حمید حسن90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکتے ہیں، جبکہ بلے بازی کا دارومدار کپتان نوریزمنگل اور محمد نبی پر ہے۔

Aufbau einer Satdion in West Kabul

یہ سٹیڈیم مغربی کابل میں واقع ہے

سنگلاخ چٹانوں، ویران پہاڑوں اور جنگ سے تباہ شدہ ملک افغانستان نے کرکٹ کے کھیل میں اس قدر پیش قدمی کیسے کی؟

اس حوالے سے کبیرخان سارا کریڈٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کو دیتے ہیں، جس نے ہمیشہ افغان ٹیم کی کئی لحاظ سے ہر ممکن مدد کی ہے۔

کبیر خان نے بتایا کہ کرکٹ کا کھیل افغان مہاجرین کے ذریعے پاکستان سے افغانستان پہنچا اورآج افغان ٹیم کی کامیابیاں بھی PCB کی ہی کوششوں اور تعاون کی مرہون منت ہیں۔

ISAF Soldat der Bundeswehr Afghanistan

افغانستان کئی دہائیوں سے بحران کا شکار ہے

38 سالہ کبیرخان اوران کی ٹیم کو یقین ہے کہ وہ ڈویژن تھری اور جنوبی افریقہ میں ہونے والے کوالیفائنگ راوٴنڈ میں جیت حاصل کرکے ورلڈ کپ تک رسائی ممکن بنالیں گے۔

عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2011 کی میزبانی پہلے ہی جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو مل چکی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic