1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عالمی کساد بازاری کی شدت میں کمی : OECD کی تازہ رپورٹ

امیر ملکوں کی اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم OECD نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی کساد بازاری کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے اور اب یہ انتہائی نچلی سطح پر چلی گئی ہے۔

default

OECD نے تاہم کہا ہے کہ عالمی اقتصادی صورتحال میں فوری بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ تنظیم کے ماہرین کے خیال میں اقتصادی بدحالی کی وجہ سے ملکوں کو جن معاشی خطرات کا سامنا تھا اب اُن سے پیدا ہونے والے خطرات میں کمی کا قوی امکان ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے فیڈرل ریزرو بینک نے بھی کچھ ایسے ہی اشارے دئے ہیں۔ اعلیٰ امریکی بینک کا خیال ہے کہ امریکی معیشت پر کسادبازاری کی کیفیت کم ضرور ہوئی ہے لیکن شرحِ ترقی کی رفتار بدستور سست رہنے کی توقع ہے۔

امریکی ریزرو بینک کی طرح تنظیم OECDکا بھی کہنا ہے کہ کسادبازاری کی شدت میں کمی واقع ضرور ہوئی ہے لیکن اقتصادیات کی مجموعی صورت حال اگلے مہینوں میں کمزور اور نازُک رہے گی اور اِس دوران کسی بھی قسم کی مُہم جُوئی ایک بار پھر کساد بازاری کو واپسی کے لئے دعوت دینے کے مترادف ہو گی۔

OECD نے مزید کہا ہے کہ اُس کے تیس رکن ملکوں میں موجودہ سال کے دوران معیشت کے سکڑنے کا عمل جاری رہے گا اور یہ مزید چار فیصد سکڑ سکتی ہے۔ اندازوں کے مطابق برطانوی اقتصادیات کےسکڑنے کی شدت سب سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

Symbolbild OECD und Steuerhinterziehung

OECDکا بھی کہنا ہے کہ کسادبازاری کی شدت میں کمی واقع ضرور ہوئی ہے لیکن اقتصادیات کی مجموعی صورت حال اگلے مہینوں میں کمزور اور نازُک رہے گی

امیر ملکوں کی تنظیم OECD نے برطانیہ، امریکہ اور یورو زون سمیت کئی ملکوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اقتصادی شرح ترقی کے لئے اشارے بھی دیئے ہیں۔ تنظیم کےمطابق سن دو ہزار دس میں برطانیہ کی شرح ترقی بدستور صفر یا اُس سے نیچے رہے گی۔

امریکہ کی شرح ترقی بہتر ہوتے ہوئے صفر سے کم ضرور ہو گی لیکن وہاں جمود کی شکار اقتصادی حالت میں تحریک پیدا ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ امریکی معیشت کے مزید سکڑنے کے امکان کم بتائے گئے ہیں۔ اِسی طرح یورو زون میں بھی اقتصادی شرع صفر سے نیچےرہے گی۔ یورو زون میں بے روزگاری میں اضافے کے امکان کو ظاہر کیا گیا ہے خاص طور سے برطانیہ میں ملازمتوں سے مزید افراد فارغ ہو سکتے ہیں۔

جن ملکوں کی تجارت بری طرح متاثر ہو چکی ہے اُن کے لئے بھی امید افزاء یہ ہے کہ تجارتی حجم کے مزید کم ہونے کا امکان قدرے کم رہے گا۔ اِن ملکوں میں جرمنی اور جاپان سب سے بلند سطح پر رہیں گے۔ دونوں ملکوں کے تجارتی حجم میں سولہ فی صد کمی واقع ہو چکی ہے۔ اِس مناسبت سے ابھی دونوں ملکوں کو کچھ اور مشکل دِنوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اِسی طرح چین اور بھارت کو بھی اپنے اپنے تجارتی حجم کم ہونے کی فکر لاحق ہے۔ چین کی تجارت کو امریکہ میں پیدا شدہ معاشی مندی اور قوت خرید میں کمی کی بڑی دیوار کا سامنا ہے اور بھارت کو یورپی ملکوں میں پیدا شدہ کساد بازاری کی وجہ سے تجارتی حجم کے سکڑنے کے اشاروں کا سامنا ہے۔

Devisen Euro Dollar Währung Wechselkurs

حالیہ عالمی کساد بازاری سے عالمی معشیت بری طرح متاثر ہوئی ہے

عالمی معیشت میں جاپان کا نام انتہائی اہم ہے۔ اُس کی شرح ترقی صفر سے بہت زیادہ نیچے پہنچ چکی ہے اور جاپانی اقتصادیات کے لئے حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ اب یہ اور مزید نہیں سکڑے گی۔ تنظیم OECD کے معاشی جائزے کے حوالے سے جاپانی ماہرینِ اقتصادیات کا خیال ہے کہ موجودہ مقام تک پہنچنے کے بعد اب جاپانی اقتصادیات مزید کتناسکڑ سکتی ہے۔ جاپانی معیشت کی شرح ترقی منفی چھ فیصد سے بھی زیادہ ہے جو انتہائی منجمد کیفیت کا عِندیہ دیتی ہے۔

OECD نے کہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی حالیہ عالمی کساد بازاری ختم ہونے کے درواہے پر ہے۔ OECD کا خیال ہے کہ اگلے برس بدحال عالمی اقتصادیات میں اعتماد کا احساس پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔ تاہم بہتری کا یہ رحجان ابتداء میں انتہائی سُست ہو گا لیکن وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ اِس میں اِستحکام پیدا ہو گا اور عالمی اقتصادیات کی کھڑی ریل گاڑی سفر شرع کردے گی۔ آئندہ سال عالمی اقتصادیات میں معاشی حجم کے مزید سکڑنے کی کیفیت سردست محسوس نہیں ہو رہی جو حوصلہ افزاء ہے۔

تنظیم OECD نے تمام ملکوں کو عمومی طور پر اور یورو زون اور ممبر ملکوں کو خاص طور پر ہدایت کی ہے کہ عالمی کسادبازاری کے اثرات کو کم کرنے کے سلسلے میں تعاون کے سِلسلے کو جاری رکھنا ہو گا اور اِسی باعث ملکوں کی اقتصادیات میں مندی کی جگہ استحکام پیدا ہو گا۔

عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ