1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عالمی کسادبازاری اختتام کے قریب

عالمی کساد بازاری کے شدید ایام اب تقریباً ختم ہو نے والے ہیں۔ کئی ملکوں نے اپنی منجمد اقتصادیات میں تحریک پیدا ہو نے کا اعلان کیا ہے۔

default

اقتصادیات اور یورو سکہ: ایک علامتی تصویر

عالمی کساد بازاری کے شدید ایام اب تقریباً ختم ہو نے والے ہیں۔ آہستہ آہستہ مختلف ملکوں کی جانب سے اعلان سامنے آنے لگا ہے کہ اُن کی منجمد اقتصادیات میں حرکت پیدا ہو نے سے اقتصادی اور صنعتی پیداواری حجم سُکڑے کے بجائے سُست رفتار کے ساتھ وسیع ہونے لگا ہے۔

لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی معیشت کے حامل ملک برازیل کی وزارت خزانہ نے اعلان کردیا ہے کہ اُس کا ملک کسادبازاری کے اثرات سے باہر آ گیا ہے۔ اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ سالِ رواں کی دوسری سہ ماہی یعنی اپریل مئی اور جون میں برازیل کی پیداوری شرح میں تقریباً دو فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ برازیل کی اقتصادیات میں تحریک کے اثرات لاطینی امریکہ کے سارے خطے پر محسوس کئے جائیں گے۔

ایسے ہی اشارے یورپی ملک سویڈن کی جانب سے بھی سامنے آئے ہیں۔ سویڈش دارالحکومت سٹاک ہولم نے جمعہ کے دِن واضح کیا تھا کہ عالمی اقتصادی بحران کے گہرے اثرات سے اب سویڈن نکل چکا ہے اور اقتصادی بحالی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

Devisen Euro Dollar Währung Wechselkurs

یورو اور امریکی کرنسی

سویڈن کے علاوہ یورو زون کے کچھ ملکوں میں بھی بہتر اقتصادی سرگرمیوں کی رپورٹس سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ یورو زون کی دو اہم اقتصادی قوتوں فرانس اور خاص طور پر جرمنی کے اندر بھی اقتصادی تحریک سے حکومتی اور کاروباری حلقوں میں اطمینان کی لہر دوڑ چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمنی اور فرانس بھی کساد بازاری کے اندھیرے سے باہر آ چکے ہیں اور اب اِن کی معیشت کی بحالی کے لئے وقت درکار ہے۔

دنیا کی دوسری بڑی اقتصادیات سمجھی جانے والی جاپانی معیشت میں بھی حوصلہ افزاء اثرات سے عالمی اقتصادیات کو تقویت ملی ہے۔ گزشتہ کئی سہ ماہیوں کے بعد پہلی بار ایسے اشارے پیش کئے گئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ منجمد جاپانی اقتصادیات پر سے برف پگھلنی شروع ہو گئی ہے۔ سال رواں کی دوسری سہ ماہی کے دوران جاپانی پیداواری حجم سکڑنے کے بجائے پھیلنے لگا ہے۔ حالانکہ حکومتی اور عالمی ماہرین کا خیال تھا کہ جاپانی اقتصادیات میں اگلے برس ہی بہتری آ سکے گی۔ مگر اِسی سال اِس ابتدا اچھے دِنوں کی نوید دی رہی ہے۔گو یہ عمل ابھی خاصا سست ہے لیکن انتہائی اطمینان بخش ہے ۔

عالمی ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ تمام اہم اقتصادیات کے حامل ملکوں کی جانب سے کسادبازاری کے خاتمے کے لئے تقریباً دس کھرب ڈالر معیشتوں کے بحالی کے لئے صرف کر دیئے گئے ہیں۔ اِن ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس بڑی رقم کے حوالے سے دیکھا جائے تو فی کس تقریباً دس ہزار ڈالر بنتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کساد بازاری سے نکلنے کے عمل میں افراطِ زر میں اضافہ ہو رہا ہے جو عام آدمی کے لئے مشکلات کا باعث ہے۔ اِس افراطِ زر کی وجہ سے زندگی کی گزر مشکل ہونے لگی ہے۔

کساد بازاری کے تناظر میں مختلف ممالک نے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ ساتھ مرکزی بینکوں اور دوسرے بڑے مالی اداروں سے جو رقوم قرضوں کی صورت میں لی ہے اب اُن کی واپسی بھی ایک اہم عمل ہے۔ ماہر معاشیات اِن قرضوں کو حکومتوں کے لئے بیساکھیاں سمجھتے ہیں اور یہ بھی دیکھنا ہےکہ اِن رقوم کی واپسی کی صورت میں حکومتیں کہیں لڑکھڑا تو نہیں جائیں گی۔ اِس کے علاوہ اقتصادی تحریکی پیکج کے ذریعے مالی اداروں میں جو اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں اُن پر کس انداز میں عمل کیا جاتا ہے۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ میں جائیداد کے کاروبار میں منفعت ہی اصل میں کساد بازاری کے مکمل خاتمے کا اعلان ہو گا۔