1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

عالمی ٹیسٹ کرکٹ رینکنگ میں پاکستان پہلے نمبر پر

ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستانی ٹیم بھارت کی جگہ دنیا کی نمبرایک ٹیم بن گئی ہے۔ پاکستان نے یہ اعزاز بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پورٹ آف اسپین ٹیسٹ بارش کی نذر ہونے کے بعد حاصل کیا ہے۔

سن دو ہزار تین میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) کی جانب سے متعارف کرائی گئی عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے بعد پاکستان نے پہلی بار سرکاری طور پر دنیا کی تمام ٹیسٹ اقوام کو پیچھے چھوڑا ہے۔

پاکستانی ٹیم عالمی نمبر ایک بننے والی آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور بھارت کے بعد دنیا کی چھٹی ٹیم ہے۔ اس سے قبل پاکستان ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کانفرنس کے دنوں میں ویسٹ انڈیز کے خلاف انیس سو اٹھاسی کا بارباڈوس ٹیسٹ جیت کر دو ماہ کے لیے عالمی نمبر ایک بنی تھی۔ اس زمانے میں عمران خان ٹیم کے کپتان تھے۔

کپتان مصباح الحق کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کو اس کی اعلیٰ کارکردگی کا صلہ مل گیا ہے اور انہیں اس اعزاز پر فخر ہے۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم سال ہا سال کی اچھی کارکردگی کے بعد نمبر ون کی حقدار تھی۔ آئی سی سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کو عالمی نمبر ایک بننے پر آئی سی سی کا گرز یا سورمائی نشان جلد ہی لاہور میں ایک تقریب میں دیا جائے گا۔

کلرک کے کمرے سے شروع ہونے والی کہانی

یہ کنوار کی ایک نیم گرم دوپہر تھی جب اس وقت کے بورڈ چیف اعجاز بٹ نے راندہ درگاہ مصباح الحق کو ون آن ون ملاقات کے لیے طلب کیا۔ اس وقت تک سڈنی کے بعد لارڈز تک سو جوتے اور سوپیاز پورے چکے تھے۔ افتاد کے اس دور میں بورڈ چیف ملاقات کو اس حد تک خفیہ رکھنا چاہتے تھے کہ انہوں نے اس کے لیے جیل روڈ کے سروس ہاؤس یا اپنے چیمبر کی بجائے پی سی بی کے ایک کلرک کے کمرے کا انتخاب کیا، جہاں مصباح کو قیادت کی پیشکش کرتے ہوئے تاکید کی گئی کہ فی الحال وہ اس معاملے کو صیغہ ء راز میں رکھیں۔

مصباح ان دنوں ٹیم سے باہر تھے اور ان کا نام انگلینڈ کے بدقسمت دورے سے پہلے ممکنہ چالیس کھلاڑیوں میں بھی شامل نہ تھا۔ یہ اعجاز بٹ ہی تھے، جنہوں نے صرف ایک سال پہلے چند ٹیلی ویژن اینکرز کے پراپیگنڈا پر مصباح کو ٹیم کی نائب کپتانی سے ہٹایا تھا۔ اس لیے بٹ اب کرکٹ ناخواندہ ان اینکرز کو دوبارہ مصباح اور خود بورڈ پر اچانک حملے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔

خیر مصباح نے اپنی زندگی کی اس سب سے بڑی پیشکش کا ذکر اس وقت تک اپنی سب سے بڑی رازدان اور شریک حیات عظمیٰ خان سے بھی نہ کیا، جب تک بورڈ کی جانب سے اعلان نہ ہوا۔ بعد ازاں حریف بولرز کے ساتھ مصباح نے اپنے ’میڈیائی مہربانوں‘ کا مقابلہ بھی صبر و استقلال کے ساتھ کیا اور یہاں تک کہ بائیس اگست دو ہزار سولہ آ گیا۔

سیاہ رات کے سینے پہ تارے

اکتوبر دو ہزار دس میں مصباح نے جب ٹیم کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت انگلینڈ کے سابق کپتان آئن بوتھم پاکستان پر ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے بند کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ وہ ٹیم ناکامیوں کے علاوہ اسپاٹ فکسنگ کے الزامات کی زد میں تھی۔

ہرش دیو کے درباریوں کی طرح پاکستانی کھلاڑی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں اس قدر طاق ہو چکے تھے کہ ایک کپتان نے دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیےحساس انکوائری کی خفیہ ویڈیو ٹیپ ایک ٹی وی چینل کو دے دی۔

دوسرے کپتان نے تیسرے کو کوتوالی کے چبوترے پر پہنچا دیا۔ آدھی ٹیم ایک اور کپتان سے بغاوت کرنے لاہور کے آر اے بازار پہنچ گئی تھی۔ اس ہنگامہ عالم میں لبرٹی حملے نے ٹیم کو اپنوں سے بھی دور کردیا تھا۔ مصباح اس سے پہلے کہ اپنے پہلے ٹیسٹ کے لیے دبئی ایئر پورٹ پر قدم رکھتے عامر اور آصف کے بعد ایک اور اہم بولر دانش کنیریا کا نام بھی فکسرزکی فہرست میں لکھا جا چکا تھا اور راتوں رات ٹیم چھوڑ کر ہیتھرو ائیر پورٹ پہنچنے والا ایک سنکی وہ حرکتیں کر رہا تھا کہ جس پر منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے کردار ایم ایس سی ریڈیو انجینئرکا گمان ہوتا تھا۔

پھر جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے ابتدائی چار دن تک بھی کچھ نہ بدلا لیکن عید کے اگلے دن خلیج فارس میں قسمت پاکستان اور مصباح پر مہربان ہوگئی۔ کیلس اور باوچر جیسے کھلاڑیوں نے پہلے کیچز چھوڑے اور پھر یونس نے ڈٹ کر ناٹ آوٹ سنچری اور مصباح نے نصف سینچری بنا کر پاکستان کی لاج رکھ لی۔ اس پارٹنرشپ کے بعد سے لگتا ہے وقت تھم گیا ہے۔ دبئی سے اوول تک پاکستان نے گزرے ان چھ برسوں میں سینتالیس میں سے جو بائیس ٹیسٹ میچ جیتے ہیں ان میں مصباح اور یونس نے ہی انیس سنچریاں داغ کر ملک کا علم بلند رکھا۔ اس طرح جس ٹیم کا سایہ دھرتی پر بوجھ لگتا تھا آج اس کے ان دو میناروں کو نیلا آسمان جھک کر چوم رہا ہے۔

عمران اور مصباح کی ٹیموں میں فرق عمران خان اور مصباح الحق دونوں کا تعلق میانوالی کے نیازی قبیلے سے ہے۔ دونوں اپنے ادوار میں ٹیم کو عالمی نمبر ایک بنانے میں کامیاب ہوئے لیکن فرق یہ ہے کہ عمران کے دور میں ان کے علاوہ جاوید میانداد، عبدالقادر، سلیم ملک اور وسیم اکرم کی صورت میں پانچ ورلڈکلاس کھلاڑی ٹیم میں تھے لیکن مصباح کی صفوں میں یونس خان کے علاوہ یہ بات کسی دوسرے کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ ایک اور غور طلب پہلو یہ ہے کہ مصباح کی ٹیم کو اپنا ہر میچ دیار غیر میں کھِیلنا پڑا ہے۔

بے شمار یادگار لمحے فراہم کیے

بیرون ممالک کرکٹ کھیلنے والی اس ٹیم کو اکثر محتاط انداز میں کھیلنے کا طعنہ ملتا رہا لیکن اس نے نمبر ون بننے کے سفر میں کئی بار دلوں کو گرمایا۔ جنوری دو ہزار گیارہ میں ہیملٹن ٹیسٹ کا تیسرا دن تھا۔ وہاب ریاض نے تیز اور خطرناک اسپیل میں یکے بعد دیگرے برینڈن میکلم، جیسی رائیڈر اور ولیمسن کو نیچا دکھا کر مشکل نظر آنے والی کامیابی آسان بنا دی۔ نیوزی لینڈ صرف چوہتر رنز میں دس کی دس وکٹ گنوا بیٹھا۔ مصباح کی قیادت میں یہ پہلی ٹیسٹ فتح تھی۔

دو ہزار بارہ میں عالمی نمبر ایک انگلینڈ کو امارات میں تین صفر سے وائٹ واش کرنا اس ٹیم کا سب سے بڑا کارنامہ تھا۔ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے سامنے جیت کے لیے معمولی ایک سو پینتالیس کا ہدف تھا لیکن سینتیسواں اوور مکمل ہونے سے پہلے تک ٹائیٹینک ڈوب چکا تھا۔ انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف اس کی تاریخ کے سب سے کم اسکور بہتر پر ڈھیر کرنیوالے لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمان تھے، جنہوں نے چھ وکٹوں پر ہاتھ صاف کیا۔

دو ہزار چودہ میں مصباح الحق نے آسٹریلیا کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں چھپن گیندوں میں ٹیسٹ کرکٹ کی تیز ترین سنچری کا عالمی ریکارڈ عظیم ویوین چرڈز کے ساتھ شیئر کیا۔

سری لنکا کے خلاف شارجہ اور پالیکلے ٹیسٹ میں ریکارڈ رنز کا تعاقب کرتے ہوئے فتوحات بھی ناقابل فراموش ہیں۔ یہ ٹیم جن کھلاڑیوں کے دم سے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئی اس میں اظہر علی، اسد شفیق، سرفراز احمد اور یاسر شاہ کے علاوہ سعید اجمل کا نام بھی قابل ذکر ہے۔