1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی نظام کا مطلب امریکی نظام نہیں، روسی وزیر دفاع

روسی وزیر دفاع شوئیگُو نے اپنے امریکی ہم منصب ایشٹن کارٹر کے اس حالیہ بیان پر شدید تنقید کی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ماسکو ’عالمی سطح پر عدم استحکام کے بیج‘ بو رہا ہے۔ ماسکو کے نزدیک یہ ’سراسر الزام‘ ہے۔

Sergei Shoigu Verteidigungsminister Russland

روسی وزیر دفاع سیرگئی شوئیگُو

روسی دارالحکومت ماسکو سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے گزشتہ ہفتے آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تقریب سے اپنے خطاب میں کہا تھا، ’’روس واضح طور پر یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اصولوں کی بنیاد پر قائم بین الاقوامی نظام کو ناکام بنا دے۔‘‘

ایشٹن کارٹر نے یہ بیان اس بہت بڑی پیش رفت سے محض چند ہی روز قبل دیا تھا، جس کے نتیجے میں اعلیٰ ترین امریکی اور روسی سفارت کاروں کے مابین شام میں قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں وہ نیا جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا تھا، جس پر دمشق کے مقامی وقت کے مطابق کل پیر بارہ ستمبر کی شام سے عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔

اپنے امریکی ہم منصب کے اس بیان کے جواب میں، جو ماسکو کے نزدیک ’سراسر الزام‘ تھا، روسی وزیر دفاع سیرگئی شوئیگُو نے پیر بارہ ستمبر کی رات ایشٹن کارٹر کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’بین الاقوامی نظام کو امریکی نظام سمجھ لینے کی غلطی کسی کو نہیں کرنی چاہیے۔‘‘

سیرگئی شوئیگُو نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’بین الاقوامی نظام کو قائم رکھنا پوری بین الاقوامی برادری کا استحقاق ہے، نہ کہ صرف پینٹاگون (امریکی محکمہ دفاع) کا۔‘‘

USA Verteidigungsminister Ashton Carter

امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق روسی وزیر دفاع نے مزید کہا، ’’عالمی نظام کوئی امریکی نظام نہیں۔ جتنا جلد ہمارے امریکی ساتھی یہ محسوس کر لیں گے، اور اپنی سوچ بدلنا شروع کر دیں گے۔ اتنا ہی جلد وہ تمام اختلافات بھی دور کر لیے جائیں گے، جو (ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان)ابھی تک پائے جاتے ہیں۔‘‘

سیرگئی شوئیگُو کے بقول اس طرح صرف شام ہی کے بارے میں نہیں بلکہ کئی دیگر اہم بین الاقوامی معاملات میں بھی اتفاق رائے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

DW.COM