1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی معیشت میں بہتری مستحکم بنیادوں پر نہیں ہے: من موہن سنگھ

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ابھی تک عالمی معاشی بحران سے مکمل طور پر نہیں نکل سکی اور اس بحران کے بعد سے عالمی معیشت میں جو بہتری آئی ہے، وہ مستحکم بنیادوں پر نہیں ہے۔

default

انہوں نے یہ بات جی 20 سربراہی کانفرنس کے لئے کینیڈا روانہ ہونے سے پہلے نئی دہلی میں کہی۔ بھارتی وزیر اعظم کا عالمی معاشی بحران کے حوالے سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت یورپی ممالک اپنے ریاستی اخراجات میں کمی کی کوششیں کر رہے ہیں۔

یورپی ممالک کے طرف سے ان مالی کٹوتیوں پر امریکہ نے کئی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اُس معاشی بہتری کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس کے آثارعالمی اقتصادی بحران کے بعد ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی نمودار ہونا شروع ہوئے ہیں۔

Indische Programmierer bei der Arbeit

عالمی بحران کے باوجود بھارتی معیشت میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں

بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نومبر 2008 کی جی 20 کانفرنس اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے رہنماؤں کے ٹھوس اقدامات نے 1930 کی دہائی جیسے معاشی بحران کا راستہ روک دیا۔ ’’اِن اقدامات کی وجہ سے عالمی معاشی بحران کے بعد سے عالمی اقتصادی صورت حال میں بہتری بھی آئی ہے۔ یہ جی 20 کی بہت بڑی کامیابی ہے لیکن یہ کامیابی مستحکم بنیادوں پر نہیں ہے۔‘‘

یورو زون میں ریاستی قرضوں کے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے من موہن سنگھ نے کہا کہ اس بحران نے یونان کو اپنی لپیٹ میں لیا اور اس سےیورپ کی اُن ریاستوں کو بھی خطرہ ہے، جن کے سالانہ بجٹ مسلسل شدید خسارے میں ہیں۔

من موہن سنگھ کے مطابق جی 20 کانفرنس کو، جس کا اس سال کا موضوع ’’معاشی بہتری اور نیا دور‘‘ ہے، ایسے اقدامات کرنے چاہیئں جو عالمی معیشت میں استحکام، پائیداری اور توازن لا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کو ایسے اقدامات بھی کرنا چاہیئں، جن سے بینکاری نظام میں توازن آئے اور عالمی اقتصادی بحران کے آثار پھر سے نمودار نہ ہوں۔ ’’اس کے علاوہ عالمی مالیاتی نظام اور مالی پالیسیوں کو بھی ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔‘‘

ڈاکٹر سنگھ کے بقول جیسے جیسے بھارتی معیشت میں شرح نمو بڑھ رہی ہے، اُسی طرح اس کا عالمی معاشی نظام پر انحصار بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ لہٰذا عالمی معیشت میں کسی بھی تبدیلی کا اثر بھارتی معیشت پر بھی پڑتا ہے۔

بھارتی معیشت میں، جسے ایشیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت سمجھا جاتا ہے، مارچ میں ختم ہونے والے گزشتہ مالی سال کے دوران 7.4 فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی، جو حسب توقع تھی۔ امکان ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران یہ شرح 8.5 فیصد تک رہے گی۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: مقبول ملک