1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے، میرکل

جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ عالمی مسائل کے حل کی خاطر بین الاقوامی سطح پر تعاون ضروری ہے جبکہ انفرادی اقدامات سے یہ مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ میرکل کے بقول وہ اس تناظر میں نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے حوالے سے بتایا ہے کہ عالمی مسائل کے حل کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ چودہ جنوری بروز ہفتہ برلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میرکل نے کہا، ’’میں قائل ہوں کہ انفرادی سطح کے بجائے بطور پارٹنر مشترکہ عمل سے مسائل کا حل ممکن ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ اسی اصول پر یقین رکھتی ہیں اور مستقبل میں بھی اسی سوچ پر عمل پیرا رہیں گی۔

دنیا بھر میں سیاسی پاپولزم بہت شدید مسئلہ، ہیومن رائٹس واچ

ٹرمپ کی خارجہ پالیسی واضح نہیں، جرمنی

جرمنی اور یورپ میں سیاستدانوں کی ’ٹرمپ ایفیکٹ‘ کے خلاف تنبیہ

امریکا میں ری پبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ صدر کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں۔ کئی ناقدین کے خیال میں ٹرمپ کے دور صدارت میں ملکی صنعت کی ترقی کی خاطر درآمدات پر ٹٰیکس کی شرح بڑھائی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کے دور میں پہلی ترجیح امریکیوں کو ہی حاصل رہے گی۔ اسی تناظر میں ٹرمپ ٹرانس پیسفک پارٹنر شپ ٹریڈ ڈیل کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔

جرمن چانسلر میرکل امریکا کی طرف سے اس ٹریڈ ڈیل سے ممکنہ اخراج پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عالمی مالیاتی مسائل کے حل کی خاطر کسی ملک کی طرف سے انفرادی ردعمل کارگر ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ اس سلسلے میں عالمی مالیاتی منڈیوں کی ریگولیشن کے لیے مشترکہ قواعد و ضوابط متعارف کرانا ہوں گے۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ میرکل کی فراخدلانہ مہاجر پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، جس کے تحت مہاجرین کی ایک بڑی تعداد جرمنی پہنچ چکی ہے۔

میرکل نے بتایا ہے کہ مشاورتی سطح پر ٹرمپ کی ٹیم سے رابطہ برقرار ہے لیکن ابھی تک یہ یقینی نہیں ہے کہ وہ جی سیون اور جی ٹوئنٹی سمٹ کے علاوہ ٹرمپ سے ملاقات کریں گی۔ جی ٹوئنٹی سمٹ جولائی میں جرمن شہر ہیمبرگ میں منعقد کی جا رہی ہے۔ میرکل کے مطابق ٹرمپ کی طرف سے صدر کا عہدہ سنبھالنے تک انتظار کیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کے دن صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

انگیلا میرکل چوتھی مرتبہ چانسلر بننے کی تیاریوں میں بھی ہیں۔ رواں برس متوقع طور پر ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ان کی سیاسی پارٹی کرسچئن ڈیموکریٹک یونین روایتی طور پر باویریا میں اپنی ہم خیال پارٹی سوشل ڈیموکریٹک یونین کے ساتھ اتحاد بنانے کے لیے پرامید ہے۔

مہاجرین کے حوالے سے برلن کی پالیسی پر ان دونوں سسٹر پارٹیوں میں کچھ اختلافات بھی دیکھے جا رہے ہیں لیکن میرکل کا کہنا ہے کہ ان اختلافات کے باوجود دونوں پارٹیاں متحد رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ الیکشن ان کے سیاسی کیریئر میں سب سے زیادہ ’سخت اور مشکل‘ ہو سکتے ہیں۔

جمعے کے دن جرمن شہر زارلوئس میں پارٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میرکل نے کہا کہ عوام کو ایسی اقدار کا تحفظ کرنا ہو گا، جو جمہوریت اور آزادی کے لیے ناگزیر ہیں۔ جرمنی میں فروغ پاتے ہوئے پاپولزم کے تناظر میں میرکل نے کہا کہ دائیں بازو کی گروہوں کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ فیصلہ کریں کہ جرمن مراعات سے کون لطف اندوز ہو سکتا ہے اور کون نہیں۔

میرکل نے کہا، ’’ ہم سب انسان ہیں۔‘‘ میرکل کی مہاجر دوست پالیسی کے بعد ہونے والے متعدد دہشت گردانہ حملوں کے باعث جرمنی میں دائیں بازو کے گروہ عوامی سطح پر مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ناقدین کے خیال میں اس تناظر میں میرکل کے لیے یہ الیکشن کڑے ثابت ہو سکتے ہیں۔

DW.COM