1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عالمی مذمت: سنگساری کی منتظر خاتون کی سزا معطل

ایرانی حکومت نے ’زناکاری کی مرتکب‘ ایک بیوہ خاتون کو عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سنگساری کی سزاکو عالمی مذمت کے باعث سردست معطل کردیا گیا ہے۔

default

برلن میں سنگساری کے خلاف ایک مظاہرے کا منظر

ایرانی حکومت نے ’زنا بالرضا کی مرتکب‘ بیوہ خاتون کی سزا بظاہر معطل کردی ہے لیکن اس کو حکام نے معمول کے مطابق قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سزا کے خلاف مغربی پراپیگنڈا بےبنیاد ہے۔ اس سزا کے حوالے سے مسلسل عالمی سطح پر مذمت کا سلسلہ جاری تھا۔

سزا معطل کرنے کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمن پرست کے بقول ’ناجائز جنسی تعلقات کی مرتکب خاتون سکینہ محمدی اشتیانی کے خلاف عدالتی فیصلے پر عمل درآمد روکنے کے بعد اس پر نظرثانی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔‘

ایرانی خاتون کو دی جانے والی سزا کے خلاف عالمی سطح پر خاصا شدید مذمتی عمل شروع تھا۔ اس سلسلے میں یورپی کمیشن کے صدر بارروسو تازہ ترین بیان دیتے ہوئے اس سزا کو انتہائی سنگدلانہ اور ظالمانہ قرار دیا۔ سزا کی معطلی کا برازیل کی حکومت نےخیر مقدم کرتے ہوئے اس فیصلے کو ایرانی حکومت کی مثبت سوچ کا مظہر کہا ہے۔

Demonstration gegen Steinigung in den Iran in Wien

مغربی ممالک میں سنگساری کے خلاف اکثر ہی مظاہرے کئے جاتے ہیں

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمن پرست کے مطابق مجرمہ سکینہ محمدی اشتیانی کے خلاف زناکاری کے علاوہ اپنے شوہر کو قتل کرنے کا مقدمہ بھی جاری ہے اور اس کا فیصلہ بھی جلد ایک عدالت سنانے والی ہے۔ مہمن پرست کے مطابق ایران میں قتل کی سزا موت ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سکینہ کی سزا کو ایرانی قانون کے مطابق ایک معمول کی سزا تصور کیا ہے۔

ادھر کیتھولک مسیحی عقیدے کے مرکز ویٹیکن میں تعینات ایرانی سفیر علی اکبر ناصری نے ایک اطالوی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی خاتون کو سنگساری کی دی جانے والی سزا میں نرمی کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

علی اکبر ناصری کے مطابق اسلامی شرعی سزاؤں کی بنیاد نرمی اور معافی کے اصولوں پر استوار ہے۔ ایرانی سفیر نے نرمی کی حد کو اپنے انٹرویو میں واضح نہیں کیا ہے۔ ویٹیکن بھی اپنے سفارتی روابط کو استعمال لاتے ہوئے انسانی ہمدری کی بنیاد پرخاتون کی سزا میں کمی چاہتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM