1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی مالیاتی تبدیلیاں بتدریج ہونی چاہییں، چین کا مؤقف

عالمی مالیاتی نظام میں فوری تبدیلیوں کے لیے امریکہ اور فرانس کی طرف سے دباؤ کو چین نے مسترد کردیا گیا ہے جبکہ فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کا مؤقف ہے کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو دنیا دوبارہ اقتصادی بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔

default

چینی صدر ہوجن تاؤ اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی

دنیا کی 20 طاقتور معیشتوں کے گروپ جی ٹونٹی کے اجلاس کے آغاز میں ہی عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلی کے حوالے سے متضاد نکتہ نظر سے یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ اس حوالے سے فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کی کوششوں کے بارآور ہونے کے امکانات کم ہیں۔ نکولا سارکوزی رواں برس کے اختتام تک مالیاتی نظام میں بہتری کے لیے ایک جامعہ لائحہ عمل تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نکولا سارکوزی کا وزرائے مالیات، مرکزی بینکرز اور معاشی ماہرین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’مناسب قانونی ڈھانچے کے بغیر بین الاقوامی معاشی اور مالیاتی نظام، کسی بھی قسم کے بحران، اقتصادی مسائل اور بڑھتے ہوئے معاشی عدم توازن کے بارے میں قبل از وقت اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔‘‘ فرانسیسی صدر نے اس موقع پر مزید کہا، ’’ قوانین اور مناسب نگرانی کے بغیر دنیا اس سے بھی زیادہ بڑے معاشی بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔‘‘

Nicolas Sarkozy Treffen der G-20-Staaten Frankreich

رواں برس کے لیے جی ٹونٹی گروپ کی صدارت فرانس کے پاس ہے

رواں برس کے لیے جی ٹونٹی گروپ کی صدارت فرانس کے پاس ہے۔ اس گروپ میں دنیا کی ترقی یافتہ اور تیزی سے ترقی کرتی معیشتیں شامل ہیں۔ دنیا کی قریب 85 فیصد معیشت کا دارومدار انہی ممالک پر ہے۔

چین جسے کہ اس فورم کی میزبانی سونپی گئی ہے، مالیاتی اصلاح کے حوالے سے سارکوزی کی کوششوں کے بارے میں زیادہ پرجوش دکھائی نہیں دیتا۔ چین کو خوف ہے کہ مالیاتی اصلاحات کا مقصد اس کی کرنسی یوآن کی قدر میں آزادانہ تبدیلی اور اس کے مالیاتی نظام پر اس کے کنٹرول کو اس کی خواہش کے برعکس جلد ختم کرنا ہے۔

فورم کے آغاز میں اپنے ابتدائی کلمات میں چین کے نائب وزیراعظم وانگ شی شن کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا عمل طویل اور پیچیدہ ہوگا۔ چین کے مشرقی شہر نان جِنگ میں جی ٹونٹی گروپ کے ہونے والے اس اجلاس کا مقصد فیصلہ سازی کی بجائے غوروفکر اور تجاویز کی تیاری ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس