1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی مالیاتی بحران اور یورپ میں بے روزگاری میں اضافہ

یورپ بھر میں امریکی موٹرساز ادارے جنرل موٹرز کی فیکٹریوں کے باہر ہزاروں ملازمین اپنا روزگار بچانے کے لئے احتجاج کررہے ہیں۔

default

اوپل کمپنی کے ملازمین احتجاج کرتے ہوئے

جرمنی کے شہر Rüsselsheim میں جنرل موٹرز کے ذیلی ادارے Opel کے کارخانے کے باہر جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائیر نے تقریباً 15 ہزار ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ حکومت اُنہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ جرمنی کے دوسرے شہروں میں بھی ملازمین نے موٹر ساز ادارے اوپل کی فیکٹریوں کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے۔

Steinmeier Opel

اوپل ملازمین سے خطاب سے قبل جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر

جرمنی کے علاوہ برطانیہ، آسٹریا، فرانس، ہنگری اور اسپین میں بھی جنرل موٹرز کے ذیلی کارخانوں کے باہر ملازمین نے احتجاج کیا۔

جرمنی میں تقریباً 25 ہزار افراد اوپل کمپنی کے لئے کام کرتے ہیں۔ امریکہ کے دو بڑے موٹر ساز ادارے جنرل موٹرز اور کرائیسلر پہلے ہی بڑے پیمانے پر اپنے ہاں ملازمتوں میں کٹوتی کے اعلان کرچکے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جنرل موٹرز کے فیصلے سے اوپل کمپنی بھی متاثر ہو گی۔

جرمنی میں بے روزگاری

Proteste General Motors Opel

اوپل کمپنی کے باہر احتجاجی بینر آویزاں ہے

عالمی اقتصادی بحران یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کو بھی آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جس کے باعث جرمنی میں بے روزگاری میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ روزگار کے وفاقی جرمن ادارےکے اعدادوشمار کے مطابق جرمنی میں بے روزگاری کی شرح 7.8 فیصد سے بڑھ کر 7.9 فیصد ہو چکی ہے۔ متعدد کمپنیاں مالی پریشانیوں کے باعث پہلے ہی کارکنوں کے کام کے اوقات میں کمی کا اعلان کر چکی ہیں۔ جرمن ادارہ برائے روزگار کے مطابق ملازمت کے دورانیے کی کمی سے اب تک دو لاکھ سے زائد ملازمین متاثر ہو چکے ہیں۔

اس ماہ عالمی بینک کے سربراہ Robert

Opelaner demonstrieren für Opel Rettung

ملازمتوں کے مواقع میں کٹتوتی سے بہت بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے

Zoellick نے جرمن چانسلر اینگلا میرکل سے گفتگو کے بعد کہا تھا’’ دنیا اقتصادی بحران سے معاشی بحران کی طرف جارہی ہے اور معاشی بحران ہمیں بےروزگاری کے بحران سے دوچار کر دے گا۔‘‘

اوپل کی طرح دیگر کمپنیاں بھی مالی پریشانیوں کے باعث اپنے اخراجات میں کٹوتیوں کے علاوہ ملازمتوں کے مواقع میں کمی کا اعلان کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ جمعرات کے روز کیمیکل مصنوعات تیار کرنے والے سب سے بڑے جرمن صنعتی گروپ BASF نے اعلان کیا کہ پیداوار کی طلب میں کمی کے باعث وہ بھی اپنے ملازمین کی تعداد کم کرنے سمیت اخراجات میں کمی کے لئے مختلف اقدامات پر غور کر رہا ہے۔