1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عالمی مالیاتی بحران اور جرمنی کی معاشی صورتحال

جرمنی کا برآمدات پر انحصار بہت زيادہ ہے۔اسی لئے وہ يورپ کے اکثر دوسرے ملکوں کےمقابلے ميں عالمی اقتصادی بحران سے زيادہ متاثر ہوا ہے۔

default

جرمنی ميں تيار کی جانے والی اشياء اور مصنوعات ميں سے تقريباً نصف سے زائد برآمد کردی جاتی ہيں۔ شہر کولون ميں جرمن اقتصاديت کے انسٹيٹيوٹ کے ايک نئے جائزے کے مطابق ملکی برآمدات آئندہ سالوں میں بھی جرمن معيشت کی کاميابی کا ذريعہ بنی رہيں گی۔

انسٹيٹيوٹ کے ايک حاليہ جائزے کے مطابق موجودہ عالمی اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے جرمنی کی برآمداتی پاليسی ميں کسی بنيادی تبديلی کی ضرورت نہيں ہے۔ انسٹيٹيوٹ کے ڈائرکٹر ميشائل ہيوتھر نے کہا کہ دنيا بھر ميں سرمايہ کاری کی وسيع گنجائش بدستور موجود ہے: ’’دنيا کے تقريباً تمام ممالک ميں يہ صورتحال ہے کہ سرمايہ لگانے سے زيادہ بچت کی جاتی ہے۔ يہ رجحان مشرق وسطی، آزادہو جانے والی سابق سوويت رياستوں کی دولت مشترکہ اور ايشيا ميں بہت نماياں ہے۔‘‘

Deutschland Wirtschaft Börse Kurse in Frankfurt DAX

جرمنی عالمی مالیاتی بحران کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے تیار

اگلے عشروں کے دوران خصوصاً اُبھرنے والے صنعتی ملکوں اور شہروں کی آبادی ميں مزيد اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ سن 2050ء تک بوڑھے افراد کی تعداد تين گنا بڑھ جائے گی۔ ہيوتھر کا کہنا ہے کہ جرمنی اس صورتحال کے مقابلے کے لئے اچھی طرح سے تيار ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ يہ اقتصادی ڈھانچے،نظامِ تعليم، طبی تيکنيک اور نظام صحت کے سازوسامان کا چيلنج ہے۔ جرمن اقتصاديت کے پيداواری دائرے ميں ان سب باتوں کا لحاظ رکھا گيا ہے۔ ہيوتھر نے کہا کہ دنيا ميں خام مال کے ذخائر میں مسلسل کمی، آب و ہوا ميں تبديلی اور توانائی کے فطری يا قابلِ تجديد ذرائع کی ٹيکنالوجی،انجن سازی اور بجلی کے پاور پلانٹس کی تيکنيک کے ميدان ميں جرمنی دوسرے ملکوں سے بہت آگے ہے۔

ہيوتھر نے کہا کہ جرمنی ميں برآمداتی شعبوں میں اُجرتوں ميں نسبتاً تيزی سے اضافہ ہوا ہے، ليکن مجموعی طور پر ملک ميں اجرتوں ميں صرف معتدل اضافہ ہوا ہے۔ ملازمت کے بہت سے نئے مواقع پيدا ہوئے ہيں اور اس طرح شہريوں کی قوتِ خريد بڑھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنيابھر ميں اس وقت اپنی اپنی قومی منڈيوں کے دروازوں کو بند کرنے اورانہيں غيرممالک سے درآمدات کے مقابلے ميں تحفظ دينے کا رجحان ديکھنے میں آرہا ہے، جس کی روک تھام کے لئے سياسی اقدامات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ: شہاب احمدصديقی

ادارت: کشور مصطفٰی