1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی مالیاتی ادارے نے عالمی شرح پیداوار کم کردی

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے اپنے سہ ماہی رپورٹ میں عالمی شرح پیداوار میں کمی کا اشارہ دیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق رواں برس مجموعی شرح پیداوار 3.2 فیصد سے بھی کم ہونے کا خدشہ ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کی سہ ماہی رپورٹ کے اجرا پر ادارے کے چیف اکانومسٹ موریس اوبسٹفیلڈ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کئی ملکوں کی اقتصادی ترقی کے سکڑنے کے عمل نے عالمی اقتصادی شرح پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور اِس نے معاشی ترقی کے عمل کو کمزور کر دیا ہے۔ اوبسفیلڈ کے مطابق اِس معاشی صورتحال کے باعث عالمی شرح پیداوار جو رواں برس کی پہلی سہ ماہی کے لیے 3.2 فیصد مقرر کی گئی تھی، اب اُس میں بھی 0.2 فیصد کی کمی کر دی گئی ہے۔ یہ کمی رواں برس کی دوسری سہ ماہی کے لیے کی گئی ہے۔ موریس اوبسفیلڈ کے مطابق طے کردہ شرح پیداوار میں کمی کا رجحان رواں برس کے پہلے مہینے سے باقاعدگی کے ساتھ محسوس کیا گیا اور سست روی کا یہ عمل ممکن طور پر طویل بھی ہو سکتا ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کے ہیڈکوارٹرز میں اِس سہ ماہی رپورٹ کی چیدہ چیدہ تفصیلات چیف اکانومسٹ نے ایک پریس کانفرنس میں بیان کیں۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ اگلے برس میں گلوبل شرح پیداوار 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ عالمی شرح پیداوار 3.6 گزشتہ برس کی آخری سہ ماہی کے اوائل میں مقرر کی گئی تھی۔ اِس رجحان کو دیکھتے ہوئے مالیاتی ادارے نے دنیا کی تمام اہم اقتصادیات کے حامل ملکوں کی مستقبل کی اکنامک آؤٹ لُک میں کمی کے رجحان کا اندازہ لگایا ہے۔

IWF Wachstumsprognose Maurice Obstfeld

واشنگٹن میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے اہلکار پریس کانفرنس کرتے ہوئے

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے مطابق لاطینی امریکی ملکوں اور روس کی مستقبل میں اقتصادی سرگرمیاں سکڑنے کا قوی امکان ہے۔ اس رپورٹ میں چین اور ترقی پذیر ایشیائی ملکوں (جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سنگاپور اور بھارت) کی بھی اقتصادی سرگرمیوں میں اگلے مہینوں میں معمولی سا اضافہ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے شرح پیداوار میں مجموعی کمی کا سبب سیاسی بےیقینی بڑھ جانے سے ابھرنے والے سیاسی خطرات کو قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابھرنے والے سیاسی خطرات اندرونی طور پر اقتصادیات کے لیے عدم استحکام کا سبب بنتے ہیں۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے رواں برس جون میں یورپی یونین میں رہنے یا اخراج سے متعلق برطانیہ میں ہونے والے ریفرنڈم کے حوالے سے واضح کیا کہ ریفرنڈم میں اگر عوامی رائے وزیراعظم کیمرون کے خلاف گئی تو اِس کے ناقابلِ تلافی منفی اثرات عالمی اقتصادیات پر عمومی طور پر اور براعظم یورپ کی اقوام پر خاص طور پر مرتب ہوں گے۔ ادارے کے مطابق ابھی ریفرنڈم کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے لیکن اس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ہلا کے رکھ چھوڑا ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر یورپی ریاستوں اور امریکا میں پروٹیکشنز کے ممکنہ رجحان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مسلم دنیا بشمول پاکستان کی بھی شرح پیداوار کم ہونے کا بتایا گیا ہے۔