1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی ماحولیاتی کانفرنس، امیدیں پوری نہ ہو سکیں

امریکی صدر باراک اوباما ، جرمن چانلسر انگیلا میرکل اور دیگر سربراہان کی شرکت کے باوجود بھی کوپن ہیگن میں تحفظ ماحول کے حوالے سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آسکا۔

default

ڈنمارک کے مقامی وقت کے مطابق سہ پہر پندرہ بج کر چھبیس منٹ پر اس کانفرنس کا اختتام ہوا۔ حالانکہ اس کانفرنس کو بیس گھنٹے پہلے ہی ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ مندو بین کے چہروں پر تھکن صاف دکھائی دے رہی تھی۔ کوپن ہیگن کانفرنس میں تحفظ ماحول کے حوالے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔

گزشتہ روز عالمی رہنماؤں کا ایک محدود معغاہدے پر اتفاق تو ہوا ہے تاہم ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے سے کم یا طویل المدتی اہداف مقرر نہیں کئے گئے۔ بہرحال یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کو، جوماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس مسئلے سے نمنٹنے کے لئے 2020ء سے سو ارب ڈالر کی امداد دی جائے گی۔

Inselstaat Tuvalu

توالو کا شمار دنیا کے چھوٹے ترین اور پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے

جیسے ہی یہ تجویز کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی، بحرالکاہل پر واقع جزیرے تووالوکے نمائندے این فرائی نے زبردست احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا وہ اس ناکافی رقم کے ساتھ اپنے ملک اور عوام کو دھوکا نہیں دے سکتے۔ مزید یہ کہ ان کے ملک کا مستقبل برائے فروخت نہیں ہے اور تووالو یہ دستاویز تسلیم نہیں کرے گا۔

تووالو وہ ملک ہے، جسے سطح سمندر میں اضافہ سب سے پہلے متاثر کرے گا۔ اس معاہدے پر متعدد ترقی پذیر ممالک نے بھی احتجاج کیا۔ ساتھ ہی لاطینی امریکی ممالک وینیزویلا ، بولیویا، نکاراگروا اور کیوبا کی جانب سے بھی احتجاج کی آوازیں بلند ہوئیں۔

UN-Klimakonferenz in Kopenhagen

باراک اوباما کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی کانفرنس میں موجود تھیں

امریکی صدر باراک اوباما کا کانفرنس سے خطاب پر ملے جلے ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ اوباما نے امریکہ میں ضرررساں گیسوں کے اخراج میں کمی کی شرح میں اضافے کے بارے میں کوئی خاص بات نہیں کی۔ ایک سو دس سے زائد سربراہان مملکت و حکومت نے ڈنمارک میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

اس کانفرنس میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہونے کی دو وجوہات رہیں۔ ایک تو شریک ممالک گرین ہاؤس گیسوں میں اخراج کی شرح پراتفاق نہ کر پائے تو دوسری جانب چین نے آزاد ذرائع سے اس شرح کو کنٹرول کرانے سے منع کر دیا۔ کوپن ہیگن کانفرنس میں موجود تمام غیر سرکاری تنظیموں نے اس اجلاس کو ایک بہت بڑی ناکامی سے تعبیر کیا۔ اگلے برس بڑی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میکسیو میں منعقد ہو گی۔ اس کانفرنس میں زمین کے درجہ حرارت کو محدود رکھنے پر بات کی جائے گی۔

رپورٹ :عدنان اسحاق

ادارت شادی خان سیف

ملتے جلتے مندرجات