1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

عالمی فٹبال ورلڈ کپ، آغاز میں چند گھنٹے باقی

جنوبی افریقہ میں فٹ بال ورلڈ کپ کے آغاز میں اب چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔ جوہانسبرگ، پورٹ الزیبتھ اورکیپ ٹاؤن سمیت ملک بھر میں جشن کا سماں ہے۔ مگر دوسری طرف لوٹ مار کے خدشات بھی حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔

default

جنوبی افریقی شہر جوہانسبرگ کی سڑکوں پر رنگا رنگ لباس پہنے لاکھوں مداحوں نے اپنی قومی ٹیم کی پریڈ کے دوران کھلاڑیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مخصوص باجے بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔

ادھر کیپ ٹاؤن میں بھی ہزاروں افراد نے اپنی ٹیم کی ہمت بندھانے کے لئے مخصوص باجے وو ووزیلا "vuvuzela" بجا کر اپنی مسرت ظاہر کی۔ وو ووزیلا کو اس ورلڈ کپ کا غیر سرکاری نشان قرار دیا جارہا ہے کیونکہ یہ نہ صرف جنوبی افریقہ کے عوام میں بے حد مقبول ہے بلکہ مقامی لوگ اپنی ٹیم کی ہمت افزائی اس مخصوص باجے کو بجا کر کرتے ہیں۔ جنوبی افریقی ٹیم کے کوچ کارلوس البرٹو پیریرا اسے اپنی ٹیم کا بارہواں کھلاڑی قرار دیتے ہیں۔

جنوبی افریقی عوام کو توقع ہے کہ اس عالمی ایونٹ کے کامیاب انعقاد سے ان کے ملک کے بارے میں رائے تبدیل ہوجائے گی۔ افریقہ کو زیادہ تر بھوک، جرائم اور ایڈز جیسے مہلک مرض کے حوالے سے زیادہ جانا جاتا ہے۔

WM Südafrika Stimmung Fan Vuvuzela Fußball

جنوبی افریقی ٹیم کے کوچ کارلوس البرٹو پیریرا نے 'وو ووزیلا' نامی روایتی باجے کو اپنی ٹیم کا بارہواں کھلاڑی قرار دیا۔

قومی ٹیم کی پریڈ کے جشن میں شامل 59 سالہ برینڈا باراٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی تمام زندگی میں ایسی خوشی اور جشن نہیں دیکھا۔

مگر خوشیوں کی اس فضا میں غیر ملکی میڈیا کے لئے مخصوص ایک ہوٹل میں ڈاکے کی ایک واردات نے تشویش بکھیر دی ہے۔ جوہانسبرگ کے خوبصورت میگالیزبرگ نامی علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں اسلحے سے لیس ڈاکوؤں کا نشانہ سپین اور پرتگال کے صحافی بنے۔ ڈاکو ان صحافیوں کی رقم کے علاوہ ان کے کیمرے اور دیگر سامان بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اس واردات کا شکار بننے والے ایک فوٹوگرافر انتونیو سیموئز کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا خوف ناک ترین لمحہ تھا، جب انہیں ایک بندوق بردار نے نیند سے جگایا۔

جنوبی افریقہ میں لوٹ مار سمیت جرائم اور خصوصاﹰ سٹریٹ کرائم کی شرح بہت زیادہ ہے۔ عالمی ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے ایسی وارداتوں پر قابو پانے کے لئے منصوبہ بندی تیاری کی ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ کامیاب کون ہوتا ہے، پولیس یا ڈاکو۔

رپورٹ: افسر اعوان/خبر رساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی