1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی طاقتیں متنازعہ صدر باگبو کے خلاف

افریقی ملک آئیوری کوسٹ کے متنازعہ صدر لاراں باگبو پوری دنیا سے ٹکر لینے کے لئے تیار ہیں۔ بین الاقوامی انتخابی مبصرین کی رائے میں صدر باگبو ایک ہفتہ قبل ہونے والے صدارتی انتخابات واضح طور پر ہار چکے ہیں۔

default

باگبو سن دوہزار سے برسر اقتدار ہیں

یورپی اور افریقی یونین سمیت امریکہ کا مطالبہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی ہار تسلیم کریں۔ لیکن باگبو اس بات کو ماننے پر تیار نہیں ہیں۔ متنازعہ صدر باگبو کو شدید ترین بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔ یورپی یونین نے افریقی ملک آئیوری کوسٹ کے اس متنازعہ صدر پردباؤ بڑھاتے ہوئے پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ یورپی سفارت کاروں نے برسلز میں بتایا کہ آئندہ باگبو اور ان کے اٹھارہ ساتھیوں کے یورپی یونین میں داخلے پر پابندی ہو گی۔

دوسری جانب متنازعہ ہو جانے والے صدارتی انتخابات کے بعد عالمی طاقتوں نے بدھ کے روز اتفاق کیا کہ اقوام متحدہ کی امن فوج کے دس ہزار سپاہی آئندہ بھی آئیوری کوسٹ میں تعینات رہیں گے۔ امریکی انتظامیہ بھی باگبو کو اقتدار چھوڑنے کا کہہ چکی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے کہا ہے، ’یہ باگبو کے لئے جانے کا وقت ہے‘۔

Elfenbeinküste Wahl Wahlen Proteste Demonstration Feuer

آئیوری کوسٹ میں گزشتہ تین دنوں کے دوران 50 افراد ہلاک ہوئے

لاراں باگبو کو آلاساں وتارا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم 2000 ء سے برسراقتدار باگبو نے انتخابی نتائج کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر بطور صدرحلف اٹھا لیا۔ یورپی یونین نے دھمکی دی ہے کہ اگر آئیوری کوسٹ میں منتخب ہونے والے امیدوار کو جلد اقتدار منتقل نہ کیا گیا تو لاراں باگبو اور ان کے ساتھیوں کے اکاؤنٹ بھی منجمد کر دئے جائیں گے۔ اقوام متحدہ، افریقی رہنماؤں، واشنگٹن اور یورپی یونین نے بھی باگبو کے حریف صدارتی امیدوار وتارا کی حمایت کی ہے۔

آئیوری کوسٹ کی فوج باگبو کے زیر اثر ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں خانہ جنگی بھی شروع ہوسکتی ہے۔ گزشتہ تین دنوں میں وہاں 50 افراد ہلاک جبکہ دو سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ متنازعہ صدر باگبو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری یہ صدارتی جنگ ہر حال میں وہی جیتیں گے۔ آئیوری کوسٹ میں نوجوانوں سے متعلقہ امور کے ملکی وزیر چارلس بلے گوڈے کہتے ہیں۔’’یہ بات سب کے ذہن میں بہت واضح ہونی چاہئے۔ میں اور میرے دوست اس لئے زندہ ہیں کہ ہم ابھی تک جاری صدارتی جدوجہد کو کامیاب ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اس کامیابی کے لئے اپنی جان تک بھی دے سکتے ہیں۔‘‘

باگبو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر صرف باگبو ہی ہوں گے یا پھر کوئی بھی نہیں۔ اور یہی وہ بات ہے جس پر آلاساں وتارا کے حامی، خاص طور پر یورپی یونین، افریقی یونین اور امریکہ بھی سیخ پا ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM