1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عالمی طاقتوں کی چکی میں پستا ہوا افغانستان

افغانستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے ، جس کے معدنی ذخائر ہمیشہ ہی سے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کو اپنی طرف کھینچتے آئے ہیں۔ انیسویں صدی میں برطانیہ اور روس اس علاقے پر قابض ہونا چاہتے تھے۔

default

اُس وقت اس متنازعہ سیاسی کھیل کو ’’گریٹ گیم‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ دریں اثنا ہمالیہ کے دامن میں ایک ’نیو گریٹ گیم‘ کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس مرتبہ اس کھیل کے مرکزی کردار امریکہ اور چین ہیں۔

افغانستان کے معدنی ذخائر کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دیگر وسطی ایشائی ممالک میں توانائی کے ذخائر اس سے بھی زیادہ مالیت کے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسا کیک ہے، جس میں پاکستان، بھارت، روس سمیت امریکہ اور چین بھی حصہ دار بننا چاہتے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں افغانستان میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ وسائل پر قبضے کی جنگ بھی جاری ہے۔

Infografik Gas-Pipeline TAPI

ماہرین کے خیال میں افغانستان میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ وسائل پر قبضے کی جنگ بھی جاری ہے

برلن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر تھامس گریفن کے مطابق گزشتہ ایک دہائی سے امریکہ اور چین کے درمیان خام معدنیات کے حصول کے لیے مقابلہ بازی جاری ہے۔ ان کے مطابق نیو گریٹ گیم ہی فیصلہ کرے گی کہ اکیسویں صدی امریکہ یا چین کی ہے۔ فریڈرش ایبرٹ فاؤنڈیشن میں شعبہ جنوبی ایشیا کے سربراہ یُرگن شٹیٹن چین کے بارے میں کہتے ہیں، ’’میرے خیال میں چین فی الحال جیو اسٹریٹیجک گیم میں ایک کھلاڑی کے طور پر سامنے آنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘‘

شٹیٹن کہتے ہیں کہ چین ابھی تک امریکہ کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی سے بچتا آیا ہے۔ نئی سپر طاقت کا خواب دیکھنے والی بیجنگ حکومت اپنے ہمسائے میں امریکہ کی موجودگی سے خوفزدہ ہے۔ یُرگن شٹیٹن کہتے ہیں، ’’ چین نہیں چاہتا کہ اس کے ارد گرد امریکی فوجی اڈوں کا گھیرا ہو۔ لیکن اسے یہ بھی معلوم ہے کہ فی الحال اس مسئلے کا فوری حل انتہائی مشکل ہے۔ میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ چین نے سب کچھ پاکستان پر چھوڑ رکھا ہے۔‘‘

ماہرین کے مطابق چین بھارت کے خلاف پاکستان کو اپنا مضبوط اتحادی تصور کرتا ہے اور ساتھ ہی اسے یہ بھی یقین ہے کہ وہ امریکہ سے براہ راست ٹکر لیے بغیر افغانستان میں پاکستان کے ذریعے اپنے مفادات کی حفاظت کر سکتا ہے۔ شٹیٹن کہتے ہیں کہ افغانستان میں پراکسی وار لڑنے والے ممالک افغانستان کو مزید مشکل حالات سے دوچار کر سکتے ہیں، ’’اس علاقے کو، مختلف ممالک کے درمیان جنگ، چاہے وہ چین ہو یا امریکہ، بھارت ہو یا پاکستان یا پھر طالبان کی واپسی، ایک ایسے تنازعے کی طرف لے جائی گی، جس کا کوئی بھی حل نظر نہیں آتا۔‘‘

شٹیٹن کے مطابق ابھی یہ اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا کہ ’نیو گریٹ گیم‘ کون جیتے گا۔ ابھی تمام راستے کھلے ہیں اور کھیل کے اختتام تک کوئی بھی جیت سکتا ہے۔

رپورٹ: رتبیل شامل/ امتیاز احمد

ادارت: امجد علی