1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عالمی سماجی فورم برازیل میں شروع

منگل کے دن سے برازیل ایک بار پھر دنیا بھر میں سول سوسائٹی کے اُس سب سے بڑے اجتماع کی میزبانی کررہا ہے جس کا آغاز داووس کے عالمی اقتصادی فورم کے مقابلے میں ایک عالمی اجتماع کے طور پر کیا گیا تھا۔

default

امسالہ عالمی سماجی فورم میں ایک لاکھ سے زائد شرکاء زیادہ تر بین الاقوامی مالیاتی بحران کے اثرات پر بحث کریں گے۔

برازیل میں Belem کے مقام پر آج سے شروع ہونے والے عالمی سماجی فورم کے شرکاء کئی روز تک زیادہ تر بین الاقوامی مالیاتی بحران اور اُس کے اثرات پر بحث کریں گے۔ ا‌ُسی طرح جس طرح داووس کے عالمی اقتصادی فورم میں شامل دنیا بھر کے سربراہان مملکت و حکومت کی توجہ کا مرکز بھی یہی موضوع ہوگا۔

لیکن سوئٹزرلینڈ میں Davos کے اقتصادی فورم کے مقابلے میں Belem کے سماجی فورم کے متوقع طور پر ایک لاکھ 20 ہزار تک شرکاء مختلف براعظموں میں رہنے والے اُن اربوں انسانوں کے مسائل کے حق میں آواز اٹھانے کی کوشش کریں گے جو موجودہ مالیاتی بحران اور کئی دیگر طرح کے بحرانی حالات سے براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔ اس لئے کہ برازیل کے عالمی سماجی فورم میں صرف مالیاتی بحران ہی ایک موضوع نہیں ہوگا بلکہ قدیم مقامی باشندوں کی حالت میں بہتری، تحفظ ماحول کی نتیجہ خیز عملی کوششیں اور غربت اور ناخواندگی کے خلاف جنگ بھی اس فورم کے مرکزی موضوعات میں شامل ہیں۔

Weltsozialforum in Brasilien

عالمی سماجی فورم کا آغاز داووس کے عالمی اقتصادی فورم کے مقابلے میں ایک عالمی اجتماع کے طور پر کیا گیا تھا

برازیل میں Belem کے شہر میں اس فورم کا انعقاد کوئی اتفاق نہیں ہے۔ آم کی پیداوار کے لئے مشہور اور مینگو سٹی کہلانے والے برازیل کے صوبے پارا کا یہ دارالحکومت شمالی برازیل میں واقع ہے جہاں سے گوآما نامی وہ دریا بھی گذرتا ہے جو بعد میں بحر اوقیانوس میں جا گرتا ہے۔ Amazon کے علاقے کے ایک مشہور بندرگاہی شہر کے طور پر Belem میں عالمی سماجی فورم کا انعقاد اس امر کی علامت بھی ہے کہ داووس کے عالمی اقتصادی فورم کے مقابلے میں اس سماجی فورم میں Amazon کے وسیع تر جنگلاتی علاقے اور وہاں کے قدیم مقامی باشندوں کی فوری ضروریات کو بھی اجاگر کیا جاسکے گا۔

اس فورم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسے علاقے میں ہورہا ہے جو ماحولیاتی تباہی سے بری طرح متاثرہوا ہے۔ Amazon کاعلاقہ ایک ایساخطہ ہے جہاں مختلف نسلی گروپوں سے تعلق رکھنے والے قدیم مقامی باشندے سیاسی طور پربھی بہت منظم ہیں۔ اسی لئے یہ عالمی سماجی فورم ایسے باشندوں اور ان کے مسائل کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرسکے گا۔

امسالہ عالمی سماجی فورم میں شرکاء کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار تک ہو جانے کی توقع ہے جن میں مختلف براعظموں میں آباد قدیم مقامی باشندوں کے قریب تین ہزار نمائندے بھی شامل ہوں گے جو اس فورم میں قدیم مقامی باشندوں کی آج تک کی سب سے بڑی شرکت ہو گی۔

عالمی سماجی فورم کے بانیوں میں سے ایک اور برازیل کی بشپس کانفرنس کے ایک 76 سالہ رکن فرانسسکو ویٹیکراس اجتماع کے بارے میں کہتے ہیں۔ ٹون، اس سال عالمی سماجی فورم کے دوران منعقد ہونے والی 2000 سے زائد تقریبات کے ایک بہت بڑے حصے کا تعلق اُن حالات سے ہوگا جنہیں ہم تہذیب کا بحران قرار دیتے ہیں۔ ہمیں اس وقت کئی طرح کے بحرانوں کا سامنا ہے اور انہیں نئے حقائق اور مختلف نقطہ نظر ہی سے حل کیا جاسکتا ہے۔

2001 میں اپنے آغاز سے لے کر آج تک، برازیل میں آج شروع ہونے والا فورم وہاں منعقد ہونے والامجموعی طور پر پانچواں عالمی سماجی فورم ہے جس میں اس سال ملکی صدر لُولا ڈی سلوا، وینیزویلا کے صدر اُوگو چاویز، بولیویا کے صدر ایوومورالیساور پیراگوئے کے صدر فیرنانڈو لُوگو کے علاوہ چلی کی خاتون صدر میشیل باچیلیٹ بھی شامل ہوں گی۔