1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی سلامتی، جرمنی زیادہ فعال کردار ادا کرنے پر رضامند

جرمن حکومت نے کہا ہے کہ وہ عالمی سلامتی کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرے گی۔ اس مقصد کے لیے برلن حکومت یورپی یونین اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جرمن حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ عالمی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے جرمنی اب عالمی برادری کے ساتھ مل کر زیادہ بہتر طریقے سے اپنا کردار نبھائے گا۔ تیرہ جولائی بروز بدھ جرمن حکومت نے ’وائٹ پیپر‘ کے نام سے ایک منصوبہ جاری کیا ہے، جس میں عہد کیا گیا ہے کہ عالمی سلامتی کو لاحق متعدد خطرات سے نمٹنے کے لیے جرمن حکومت زیادہ فعال کردار ادا کرے گی۔

DW.COM

یورپی یونین اور نیٹو کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جس میں روس کی طرف سے ممکنہ خطرات کے علاوہ اسلام پسندوں کی جانب سے دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلیاں اور مہاجرین کا بحران سرفہرست ہیں۔ بدھ کو جاری کردہ اس ’وائٹ پیپر‘ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی جغرافیائی اور اقتصادی لحاظ سے ایک اہم ملک ہے لیکن ساتھ ہی اسے خطرات بھی لاحق ہیں، ’’اس لیے اس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ورلڈ آرڈر کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرے‘‘۔

وائٹ پیپر نامی اس روڈ میپ کے مطابق جرمنی موجودہ اور مستقبل کے سکیورٹی اور انسانی بحرانوں کے حل میں مدد کے لیے تیار ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی کابینہ نے اس مجوزہ منصوبے کو منظور کر لیا ہے جب کہ اگلے مرحلے میں اسے وزیر دفاع ارسلا فان ڈیر لاین کو ارسال کیا جائے گا۔

اس پیپر میں مزید کہا گیا ہے کہ دیگر خطرات کے علاوہ جرمنی میں اس وقت دہشت گردانہ حملوں کا خدشہ بھی شدید ہو چکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ابھی تک جرمنی ایسے حملوں سے بچا ہوا ہے لیکن موجودہ صورت حال میں یہ خطرہ زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اس تںاظر میں کہا گیا ہے کہ ملکی سرحدوں کے اندر بھی ملکی فوج کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

جرمنی کے ’نازی ماضی‘ کے دور کو دیکھتے ہوئے برلن حکومت کی طرف سے پیش کردہ اس منصوبے کو ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی نے نوّے کی دہائی میں پہلی مرتبہ بلقان میں اپنا امن فوجی مشن روانہ کیا تھا۔

Militärische Ausbildung für Kurden in Deutschland

انتہا پسند گروہ داعش کے خلاف کارروائی میں بھی عالمی برداری کی مدد کے لیے برلن حکومت نے کثیر القومی اتحاد کی حمایت کی تھی

حال ہی میں جرمنی نے اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت افغانستان ، مالی اور دیگر ممالک میں اپنے فوجی دستے تعینات کیے تھے۔ انتہا پسند گروہ داعش کے خلاف کارروائی میں بھی عالمی برداری کی مدد کے لیے برلن حکومت نے کثیر القومی اتحاد کی حمایت کی تھی، جس نے اعتدال پسند شامی باغیوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کیا تھا۔

یوکرائن کے معاملے پر روس اور یورپی یونین کے مابین تناؤ کی کیفیت میں چانسلر میرکل نے اہم کردار ادا کیا تھا اور اس کشیدگی میں کمی پیدا ہوئی تھی۔ لیکن گزشتہ ہفتے ہی میرکل نے مشرقی یورپی ممالک میں آئندہ برس سے نیٹو کی افواج کی موجودگی بڑھانے پر رضا مندی بھی ظاہر کی تھی۔