1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

عالمی سطح پر ہجرت ميں اضافہ، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ايک تازہ مطالعے ميں انکشاف کيا گيا ہے کہ گزشتہ پندرہ برسوں ميں اپنے آبائی ممالک سے بيرون ممالک منتقل ہونے يا ہجرت کرنے والوں کی تعداد ميں اکتاليس فيصد اضافہ ريکارڈ کيا گيا ہے۔

سن 2015 کے اختتام پر دنيا بھر ميں 244 ملين افراد ايسے تھے، جو ہجرت کر کے دوسرے ممالک منتقل ہو چکے ہيں۔ ان ميں سے قريب بيس ملين پناہ گزين ہيں۔ عالمی ادارے کی جانب سے يہ انکشاف آج بروز منگل جاری کردہ ايک جائزے ميں کيا گيا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے رواں سال کے دوران متعدد کانفرنسوں اور اجلاسوں کا انعقاد کيا جائے گا، جن کی مدد سے پناہ گزينوں اور بالخصوص شامی مہاجرین کی ديگر ممالک منتقلی کی کوشش کی جائے گی۔ جنيوا ميں تيس مارچ کو ايک اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس ميں اسی حوالے سے بات چيت متوقع ہے۔ اگرچہ شامی مہاجرين کا بحران ان دنوں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے تاہم عالمی سطح پر ہونے والی ہجرت ميں يہ ايک سمندر ميں قطرے کی حيثيت رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کی بين الاقوامی ہجرت کے موضوع پر جاری کردہ رپورٹ کے چند اہم نکات:

دنيا بھر ميں 244 ملين مہاجرين ميں سے قريب بيس ملين پناہ گزين ہيں

دنيا بھر ميں 244 ملين مہاجرين ميں سے قريب بيس ملين پناہ گزين ہيں

مہاجرين جا کہاں رہے ہيں؟

امريکا بلاشبہ تارکين وطن کی ميزبانی کرنے والا سرفہرست ملک ہے۔ وہاں تقريباً سينتاليس ملين مہاجرين مقيم ہيں، جو ملک کی مجموعی آبادی کا ايک پانچواں حصہ بنتا ہے۔ مہاجرين آبادی کے لحاظ سے جرمنی اور روس دوسرے نمبر پر ہيں۔ ان دونوں ممالک ميں قريب بارہ بارہ ملين تارکين وطن مقيم ہيں۔ ان ممالک کے بعد سعودی عرب دس ملين، برطانيہ نو ملين اور متحدہ عرب امارات آٹھ ملين پر مشتمل مہاجر آبادی کے ساتھ سرفہرست ہيں۔ يہ امر اہم ہے کہ مہاجرين کی اکثريت يعنی تقريباً دو تہائی تعداد ايشيا اور يورپ ميں مقيم ہے۔ يورپ ميں قريب 76 ملين افراد ايسے ہيں جو اپنے آبائی ملکوں سے ہجرت کرنے کے بعد اب وہاں رہتے ہيں جبکہ ايشيا ميں ايسے مہاجرين کی تعداد 75 ملين ہے۔

تارکین وطن آ کہاں سے رہے ہيں؟

اگر ايشيا و يورپ مہاجرین کی پسندیدہ منزل ہيں، تو ان ہی بر اعظموں سے مہاجرين سب سے زيادہ تعداد ميں ہجرت بھی کر رہے ہيں۔ بر اعظم ايشيا سے ہجرت کرنے والوں کی کُل تعداد 104 ملين ہے، جو عالمی سطح پر ہجرت کرنے والوں کی تعداد کا تينتاليس فيصد ہے۔ يورپ کی شراکت پچيس فيصد يا باسٹھ ملين ہے۔ اقوام متحدہ کی تيرہ جنوری کے روز جاری کردہ اس رپورٹ ميں يہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ ہجرت عمومی طور پر ايک ہی خطے کے ملکوں ميں ہوتی ہے۔ بين الاقوامی ہجرت کرنے والوں ميں بھارت سولہ ملين، ميکسيکو بارہ ملين، روس گيارہ ملين، چين دس ملين، بنگلہ ديش سات ملين اور پاکستان اور يوکرائن چھ، چھ ملين کے ساتھ سر فہرست ہيں۔

مہاجرين ہيں کون؟

ہجرت کرنے والوں کی اڑتاليس فيصد تعداد عمر کے اعتبار سے ملازمت کی اہل خواتين پر مشتمل ہے۔ 2015ء ميں مہاجرين کی اوسط عمر انتاليس برس تھی۔ کُل مہاجرين کا قريب بيس فيصد حصہ بيس برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔

عالمی آبادی پر اثرات

سن 2015 ميں دنيا کی مجموعی آبادی کا محض 3.3 فيصد تارکين وطن پر مشتمل تھا، جو پندرہ برس قبل 2.8 فيصد تھا۔ اگرچہ يہ اعداد و شمار يہی ظاہر کرتے ہيں کہ دنيا کی آبادی اکثريتی طور پر اپنے آبائی ممالک ميں ہی موجود ہے تاہم يہ امر بھی اہم ہے کہ بين الاقوامی ہجرت ميں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوں گے۔