1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی سطح پر بچوں کے درمیان بھی ڈرامائی بے انصافی

دنیا بھر اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے کم عمر بچیوں کی شادیوں کی شرح میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ اور 2030ء تک کروڑوں بچے ایسی بیماریوں سے مر سکتے ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے بچوں کی بہبود کے ادارے یونیسیف نے یہ باتیں اپنی آج منگل 28 جون کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتائی ہیں۔ اس سالانہ رپورٹ کے مطابق غریب بچوں کے پانچ برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل مرنے کے امکانات متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں سے دو گُنا زیادہ ہیں۔ جبکہ بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے باعث غریب لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کے امکانات دو گنا سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی باعث اس ادارے کی طرف سے اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے غریب ترین بچوں کی مدد کے لیے زیادہ بھرپور کوششیں عمل میں لائی جائیں۔

یونیسیف کے ڈپٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جسٹن فورسِتھ نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا، ’’بعض بڑے چیلنجز جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں جیسے مہاجرین یا تارکین وطن، عدم مساوات اور غربت سے جڑے ہوئے ہیں۔‘‘ فورستھ کے مطابق عدم مساوات کا خاتمہ ایسے بچوں کے حق میں ہے مگر یہ بات بھی اہم ہے کہ مستقبل میں ایسے تنازعات کو روکا جائے۔

یونیسیف کی طرف سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں اس بات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے بچوں کو تعلیم دی جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوسطاﹰ اگر ایک بچہ ایک برس کی اضافی تعلیم حاصل کرتا ہے تو بالغ ہونے پر اس کی کمائی 10 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی قوم میں نوجوان اوسطاﹰ ایک سال کی اضافی تعلیم حاصل کرتے ہیں تو اس قوم کی غربت کی شرح میں نو فیصد تک کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

یونیسیف کی اس سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا میں قریب 124 ملین بچے ایسے ہیں جو پرائمری یا لوئر سیکنڈری اسکول نہیں جاتے۔ یہ تعداد 2011ء کے مقابلے میں دو ملین زائد ہے۔

یونیسیف کے پروگرام ڈائریکٹر ٹَیڈ چائبان نے نیویارک میں اپنے ادارے کی سالانہ رپورٹ کے اجراء کے موقع پر بتایا کہ اگرچہ گزشتہ پچیس برسوں کے دوران بچوں کی تعلیم اور صحت کے حوالے سے ’زبردست پیشرفت‘ ہوئی ہے تاہم اس پیشرفت کی تقسیم مساوی نہیں تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر دنیا کے ہر غریب بچے تک پہنچنے میں کامیابی نہ ہوئی تو اگلے پندرہ برسوں کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے انہتر ملین بچے ایسی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جائیں گے، جن کا آسانی سے علاج ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جنوبی ایشیا اور افریقہ میں زیریں صحارا کے علاقے میں حالات خاص طور پر بہت خراب ہیں۔