1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی رہنماؤں پر دباؤ کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے حق میں مارچ

آج دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد نے ماحولیاتی تبدیلی کی وجوہات کے خاتمے کے لیے ریلیوں میں شرکت کی ہے۔

ان ریلیوں کا مقصد عالمی رہنماؤں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ عالمی حدت کو روکنے کے لیے متحد ہوں اور ماحولیاتی سربراہی کانفرنس میں ٹھوس اقدامات کریں۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں ہونے والی ریلی کے دوران جوتوں کے دو ہزار جوڑے بطور علامت پلاس ڈی لا ریپبلک میں رکھے گئے جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ 13 نومبر کے حملوں کے باعث اتنی تعداد میں لوگ اس مارچ میں شریک نہیں ہوئے۔ ریلی کے منتطمین کے مطابق ویٹیکن نے بھی کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کی طرف سے جوتوں کا ایک جوڑا بھیجا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے حق میں ہونے والی ریلیوں کے سلسلے میں مجموعی طور پر دو ہزار مختلف ایونٹس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ریلیوں کا اہتمام جن اہم شہروں میں کیا گیا ہے ان میں سڈنی، برلن، لندن، ساؤ پولو اور نیویارک شامل ہیں۔ اس طرح پیرس میں ہونے والی کانفرنس سے محض ایک روز قبل ہونے والے یہ مظاہرے کلائمیٹ ایکشن کے حوالے سے سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔ پیرس میں عالمی ماحولیاتی سربراہی کانفرنس کا آغاز پیر 30 نومبر سے ہو رہا ہے اور یہ کانفرنس 11 دسمبر تک جاری رہے گی۔

اس کانفرنس میں امریکی صدر باراک اوباما اور چینی صدر شی جِن پِنگ کے ساتھ ساتھ دنیا کے 140 ممالک کے سربراہان حکومت اور ریاست شریک ہوں گے۔

آسٹریلوی شہر سڈنی میں ہونے والے مارچ میں اندازوں کے مطابق 45000 افراد نے شرکت کی ہے۔ شرکاء نے شہر کے وسطی حصے سے اوپرا ہاؤس تک مارچ کیا۔ سڈنی کے لارڈ میئر کلوور مور بھی شریک ہوئے جنہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں اسے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اس بندرگاہی شہر میں منعقد ہونے والی سب سے بڑی ریلی قرار دیا۔ ریلی کے شرکاء نے ماحولیاتی تحفظ کے حق میں بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

ہانگ کانگ میں ہونے والے مارچ میں دو مظاہرین نے فوم سے بنے پولر بیئرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’بے گھر اور بھوکے‘ اور ’خدارا مدد کیجیے‘۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث قطبین پر برف پگھل رہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف پولر بیئر سمیت وہاں موجود زندگی خطرے میں ہے بلکہ اس وجہ سے سمندروں کی سطح میں بھی اضافے کا خطرہ ہے جو دنیا کے نشیبی علاقوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں لوگوں نے ڈرم بجا کر اور رقص کر کے مظاہرہ کیا۔ ہفتے کے روز مذہبی گروپوں کی طرف سے مختلف پٹیشنز جمع کی گئیں جن پر 1.8 ملین افراد کے دستخط تھے۔ ان پیٹیشنز میں عالمی حدت سے نمٹنے اور ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ کچھ ماحول دوست حلقوں کا کہنا ہے کہ 2050ء تک توانائی کے معدنی ذخائر انحصار بتدریج ختم کر دیا جانا چاہیے اور توانائی سو فیصدی متبادل اور قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کی جانی چاہیے۔

پیرس میں شروع ہونے والی دو روزہ کانفرنس کا مقصد ایک ایسے عالمگیر معاہدے پر اتفاقِ رائے ہے، جو 2020ء سے لاگو ہو سکے گا اور جس میں طے کردہ اقدامات کی مدد سے زمینی درجہٴ حرارت میں اضافے کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔