1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی دہشت گردی کا خاتمہ فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں، ملائشیا

ملائشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے کہا ہے کہ عالمی دہشت گردی کا خاتمہ صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب میں کہی۔

ہفتے کے روز ملائشیا میں آسیان اجلاس کے آغاز کے موقع پر جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک کے سربراہان نے دنیا بھر میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین کو یاد بھی کیا۔

دارالحکومت کوالالمپور میں اپنے خطاب میں رزاق نے کہا، ’’حالیہ دنوں اور ہفتوں میں پیش آنے والے دہشت گردانہ واقعات نے ہم سب کو متاثرکیا ہے۔‘‘

اپنے خطاب میں رزاق کا مزید کہنا تھا، ’’اس ہال میں ایسا ایک بھی شخص نہیں ہو گا جو اس بیمار سوچ اور انسانی زندگی کی ایسی توہین سے دھچکے کا شکار نہ ہوا ہو، یا حالیہ واقعات نے اسے جھنجھوڑ نہ دیا ہو۔ تمام ممالک دکھ منا رہے ہیں اور ہمارا دکھ سانجھا ہے۔‘‘

Philippinen APEC Gipfel Familienfoto

اجلاس میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو یاد کیا گیا

تاہم نجیب رزاق نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف فوجی ردعمل کافی نہیں ہو گا، ’’ہم فوجی طریقے سے ان قوتوں کو شکست نہیں دے سکتے، جو امن نہیں چاہتیں اور صرف جنگ کی خواہاں ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’سانحے کے اس وقت میں، ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ ایسا نظریہ خود جھوٹ ہونے کی وجہ سے سب کے سامنے آ جائے گا اور پھر مٹ جائے گا۔‘‘

نجیب رزاق نے مہاتماگاندھی، نیلسن منڈیلا اور مارٹن لوتھر کنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کے دل جیت لینا اصل کامیابی ہے۔ ’’ان افراد نے اپنے دشمنوں کے دل جیت کر انہیں دوستوں میں تبدیل کر دیا تھا۔‘‘

آسیان سمٹ کے موقع پر کوالالمپور میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اجلاس گاہ کے آس پاس سینکڑوں مسلح فوجی تعینات ہیں۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب صرف ایک روز قبل عسکریت پسندوں نے مالی میں ایک لگژری ہوٹل میں درجنوں افراد کو یرغمال بنا لیا اور ان یرغمالیوں کی رہائی کے لیے فوجی آپریشن کی ضرورت پڑی ۔ اس واقعے میں 27 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس اجلاس میں امریکی صدر باراک اوباما بھی شریک ہیں۔ جب کہ اجلاس گاہ کے قریب قریب ایک سو افراد امریکا کے خلاف مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔