1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’عالمی دہشت گردی‘ : سلامتی کونسل کے مباحثے میں مائیکرو سافٹ مدعو

ہارڈ اور سافٹ ویئر بنانے والی مشہور زمانہ مائیکرو سافٹ کمپنی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے آئندہ ہفتے ’’انسداد دہشت گردی اور ’’ ڈیجیٹل دہشت گردی‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی مباحثے میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔

وزارتی سطح کے اس مباحثے کا اہتمام مصر کر رہا ہے، جو اس ماہ 15 رُکنی سلامتی کونسل کی صدارت کے فرائض انجام دے رہا ہے۔

سلامتی کونسل کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ کوئی تکنیکی کمپنی اس کے پلیٹ فارم پر ہونے والے مباحثے میں حصہ لے گی۔ اس مباحثے کے انعقاد سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے اور اس کے استعمال سے پُر تشدد انتہا پسندی کے رجحان کے پھیلاؤ کا موضوع سلامتی کونسل کی دلچسپی اور تشویش میں مسلسل اضافے کا سبب بن چُکا ہے۔

سافٹ ویئر جائنٹ مائیکرو سافٹ کمپنی نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ اُس کا ایک ترجمان سلامتی کونسل کی دعوت پر مذکورہ مباحثے کے ایک خصوصی سیشن میں حصہ لے گا تاہم اس کا نام اور اُس کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔

قوام متحدہ کے ماہرین کے ایک پینل نے گزشتہ جون میں ہی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کمپنیوں پر زور دیا تھا کہ وہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش میں نئے بھرتی ہونے والوں اور دیگر انتہا پسندوں کی طرف سے اپنی سروسز کے استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے ان کا جواب دیں۔

ماہرین نے سکیورٹی کونسل کو مشورہ دیا کہ وہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نیٹ ورک کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ناجائز استعمال کی روک تھام کے سلسلے میں انٹرنیٹ کمپنیوں کو مدعو کر کے ان سے پوچھے کہ وہ انٹرنیٹ کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے لیے کون سے احتیاطی اقدامات کر رہی ہیں۔

Hannover Messe - Flugzeugturbine am Stand von Microsoft

مائیکرو سافٹ کی مصنوعات ہر جگہ نظر آتی ہیں

ماہرین کے پینل نے سلامتی کونسل کو پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں،’’ہائی ڈیفینیشن ڈیجیٹل ٹیرر: پروپگینڈا کا استعمال، خاص طور سے اسلامک اسٹیٹ اور اس کے حامیوں کی طرف سے اس نئی ٹیکنالوجی کو دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلانے اور اپنے مسخ شدہ نظریات کی تشہیر کے لیے بروئے کار لائے جانے جیسے اہم سوالات اُٹھائے ہیں۔

آئی ایس یا داعش انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے غیر ملکی جنگجوؤں کے گروپوں کو تیار کرنے اور ان کی بھرتی کے کام میں غیر معمولی تیزی لائی ہے۔ قریب 30 ہزار جنگجو بحران ذدہ عرب ملک شام، عراق اور دیگر ممالک پہنچ کر جہادیوں کی صفوں میں شامل ہوئے ہیں۔

DW.COM