1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی ثقافتی ورثے کی تباہی، مسلمان شدت پسند کو نو سال کی سزائے قید

ہالينڈ کے شہر دی ہيگ ميں بين الاقوامی فوجداری عدالت نے آج بروز منگل ايک مسلمان شدت پسند کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار ديتے ہوئے نو برس کی سزائے قيد سنا دی ہے۔

عالمی فوجداری عدالت نے افریقی ریاست مالی کے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے کی تباہی کے ذمہ دار ’جہادی‘ احمد الفقی المہدی کو نو سال کی سزائے قید کا حکم سنایا ہے۔ ماہرین امید کر رہے ہیں کہ اس تاریخی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں دنیا کے غیر محفوظ آثارِ قدیمہ کا اب بہتر طور پر تحفظ کیا جا سکے گا۔ چالیس سالہ ملزم نے پہلے ہی ان قدیمی مقامات کی تباہی کے احکامات دینے اور خود بھی اس میں عملی حصہ لینے کا اعتراف کر لیا تھا۔

2012ء کے موسمِ گرما میں ٹمبکٹو میں قرونِ وُسطیٰ کے نو مقبروں اور ایک مسجد کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ القاعدہ سے منسلک باغيوں نے سن 2012 ميں ٹمبکٹو پر قبضہ کرتے ہوئے سخت ترين اسلامی قوانين نافذ کر ديے تھے۔ شدت پسندوں نے مٹی کی اينٹوں سے بنے تاريخی مقبروں کی تباہی کے احکامات جاری کیے تھے۔ المہدی اسی عمل سے منسلک ايک گروہ کا سربراہ تھا۔ انٹرنيشنل کریمنل کورٹ کے مطابق المہدی انصار الدین نامی ايک گروہ کا رکن تھا، جس کے القاعدہ کے ساتھ قريبی روابط تھے۔ اسے دو برس قبل نائجر سے حراست ميں ليا گيا تھا۔

احمد الفقی المہدی کے خلاف عدالتی کارروائی بائيس اگست کے روز شروع ہوئی تھی۔ يہ امر اہم ہے کہ يہ پہلا واقعہ ہے کہ جب آئی سی سی کی جانب سے کسی مجرم کو تاريخی ورثے کی تباہی پر سزا کا حقدار قرار ديا ہے۔ يہ بھی اہم ہے کہ اس ضمن ميں يہ کسی مسلمان انتہا پسند کو دی جانے والی پہلی سزا ہے۔

عدالتی فيصلے کے جواب ميں المہدی نے منگل کے روز کچھ نہيں کہا تاہم پہلے ايک عدالتی سماعت کے دوران اس نے تمام مسلمانوں پو زور ديا تھا کہ وہ  شدت پسندی سے گريز کريں۔