1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی تجارت سے متعلق دس سالہ مذاکرات کی ناکامی کا خدشہ

عالمی ادارہء تجارت کی رکن ریاستوں کو تشویش ہے کہ امریکہ اور تیزی سےترقی کرتی ہوئی دنیا کی کئی دیگربڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی شعبے میں موجودہ اختلافات اس بارے میں دس سالہ مذاکرات کو بالآخر ناکامی سے دوچار کر سکتے ہیں۔

default

پاسکل لامی عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے، فائل فوٹو

امریکہ کے چین، بھارت اور برازیل جیسے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے اہم رکن ملکوں کے ساتھ یہ اختلافات بنیادی طور پر مصنوعات کی تیاری اور ان پر عائد کیے جانے والے محصولات سے متعلق ہیں۔ اس بارے میں ڈبلیو ٹی او کے ڈائریکٹر جنرل پاسکل لامی کا کہنا ہے کہ ان ملکوں کے باہمی اختلافات کی وجہ یہ تنازعہ ہے کہ تیار شدہ مصنوعات کی تجارت پر عائد کیے جانے والے محصولات میں کمی کس حد تک کی جانی چاہیے۔

پاسکل لامی کے بقول یہ اختلاف رائے اتنا زیادہ ہے کہ فریقین ابھی تک اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور یہ خلیج فوری طور پر عبور ہوتی نظر نہیں آتی۔ WTO کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق یہ جمود سنجیدہ نوعیت کے ایسے خدشات کا سبب بنا ہے کہ عالمی ادارہء تجارت کے رکن ملکوں کے درمیان یہ تنازعہ عالمی تجارت ہی سے متعلق زراعت، پیشہ ورانہ خدمات اور اینٹی ڈمپنگ ضابطوں سمیت کئی طرح کے ریگولیٹری امور کے بارے میں مذاکرات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

Unzählige Kisten voller Bananen Bananenstreit Flash

دوحہ راؤنڈ کے مذاکرات کا مقصد عالمی تجارت سے غریب ملکوں کو ہونے والے فائدے میں اضافہ کرنا ہے

اسی لیے پاسکل لامی کا کہنا ہے کہ امریکہ سمیت ڈبلیو ٹی او کے رکن ملکوں کو اب ایک مشکل انتخاب کرنا ہو گا، یا تو وہ اپنے اپنے سخت موقف پر ڈٹے رہیں اور مذاکرات تعطل کا شکار رہیں اور یا پھر وہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی امید میں اپنی اپنی پوزیشن میں لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کی سوچ اپنائیں۔

امریکہ میں صدر باراک اوباما کی قیادت میں ملکی انتظامیہ کا مسئلہ یہ ہے کہ امریکی کانگریس ایسے کسی بھی معاہدے کو ممکنہ طور پر مسترد کر سکتی ہے، جس میں اس بات پر زیادہ دھیان نہ دیا گیا ہو کہ بین الاقوامی تجارتی مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ میں زراعت، تیار شدہ مصنوعات اور پیشہ ورانہ خدمات کے شعبوں میں برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے چاہیئں۔

NO FLASH Hauptsitz WTO in Genf Schweiz

جنیوا میں عالمی ادارہء تجارت کا ہیڈ کوارٹر

عالمی ادارہء تجارت کے تحت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ان مذاکرات کا آغاز سن 2001 میں ہوا تھا اور اسی لیے اس بات چیت کو ’دوحہ راؤنڈ‘ کی مکالمت کا نام دیا جاتا ہے۔

اس بات چیت کا مقصد یہ تھا کہ امیر ملکوں کی داخلی منڈیوں تک غریب اور ترقی پذیر ریاستوں کو ان کی برآمدی مصنوعات کے لیے زیادہ سے زیادہ رسائی دیتے ہوئے کم تر وسائل والے ملکوں کو بھی ترقی اور خوشحالی کے کافی مواقع مہیا کیے جائیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس