1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی برادری بشار الاسد پر دباؤ بڑھائے، کلنٹن

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ شام کی تیل و گیس کی برآمدات کو نشانہ بناتے ہوئے بشار الاسد پر دباؤ بڑھایا جانا چاہیے۔

default

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

ہلیری کلنٹن نے یہ بیان پیرس میں دیا، جہاں جمعرات کو انہوں نے لیبیا کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی۔

انہوں نے کہا: ’’تشدد کا سلسلہ ختم ہونا ہی چاہیے اور اسے (بشار الاسد کو) اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا: ’’شام میں اقتدار کی جمہوریت کی جانب منتقلی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ صدر اسد اس بات کو تسلیم کر لیں اور اقتدار چھوڑ دیں تاکہ شام کے عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔‘‘

اُدھر سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین جمعہ کو شام سے تیل کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے والی ہے۔ تاہم برسلز سے مزید بتایا گیا ہے کہ اٹلی کے پہلے سے چلے آ رہے معاہدوں کی باقی مدت کی وجہ سے یہ فیصلہ وسط نومبر سے نافذ کیا جا سکے گا۔

خیال رہے کہ شام کے تیل کا تقریباً پچانوے فیصد یورپی یونین کے رکن ممالک خریدتے ہیں۔ یورپی یونین شام کی قیادت کے مزید ارکان کے خلاف ویزے کی پابندی کے ساتھ ساتھ مزید کمپنیوں اور بینکوں کے مالی اثاثے منجمد کرنے کا بھی فیصلہ کرنا چاہتی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے شام کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ایک نئی قرارداد کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اسپین کے وزیر اعظم لوئیس روڈریگیس ساپاتیرو نے بھی کہا کہ لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت سے کیے جانے والے آپریشن کے بعد عالمی برادری کو اسد مخالف شہریوں کی حمایت کرنی چاہیے۔

Spanien Zapatero Neuwahlen

اسپین کے وزیر اعظم لوئیس روڈریگیس ساپاتیرو

ان کا کہنا تھا: ’’اس (لیبیا کی) مثال کا دائرہ کار شام اور اس جیسے دیگر ممالک تک بڑھایا جانا چاہیے، جہاں آزادی کی لڑائی جاری ہے اور عالمی برادری کو جن کی کھل کر حمایت کرنی چاہیے۔‘‘

مظاہرے اور کریک ڈاؤن

شام میں حکومت مخالف مظاہرین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے تازہ کارروائیوں میں کم از کم سات افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ انہوں نے جمعہ کو ’ذلت کے بجائے موت‘ کے بینر تلے نئے مظاہروں کی کال بھی دی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومت مخالفین نے فیس بُک پر اپنے پیج ’سیریئن ریوولیوشن 2011ء‘ پر جمعرات کی پرتشدد کارروائیوں کے باوجود نئے مظاہروں کی کال دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ریلیاں ’ذلت کے بجائے موت‘ کے عنوان کے تحت نکالی جائیں۔ انہوں نے کہا: ’’ہم لاکھوں کی تعداد میں شہیدوں کے طور پر مرنے کو تیار ہیں۔‘‘

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس