1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی برادری ایران کے ایٹمی پروگرام کو قبول نہیں کرے گی۔

یورپی یونین ایران کو مختلف طرح کی ترغیبات دیتے ہوئے اُس کا متنازعہ ایٹمی پروگرام بند کروانے کی کوششیں کرتی رہی ہے۔ تاہم اب تک یہ مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب یورپی یونین ایران کے ساتھ مذاکرات کا یہ سلسلہ بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اِسی دوران ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامِنہ ای نے لبنان میں اسرائیل کی مبینہ شکست کے بعد مغربی دُنیا کی طرف سے سازشوں سے خبردار کیا ہے۔

default

یورپی یونین کے ہیڈکوارٹر برسلز میں آج یونین کے ایک سفارت کار نے بتایا کہ آئندہ منگل کو یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے لکسمبرگ منعقدہ اجلاس میں ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام کے موضوع پر جاری مذاکرات کا سلسلہ بند کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے گا کیونکہ یہ مذاکرات اب تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔ سفارت کار نے کہا کہ یورپی حکومتوں کے خیال میں اب عالمی سلامتی کونسل کو اِس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔

اِدھر آج جرمنی کے دارالحکومت برلن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے بھی کہا کہ خارجہ امور کے رابطہ کار خاویئر سولانا کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات منقطع ہو چکے ہیں اور اس طرح یورپی یونین کے پاس کوئی دلیل باقی نہیں رہی کہ اِس معاملے کو سلامتی کونسل تک نہ لے جایا جائے۔ تاہم شٹائن مائر اور یونین کے دیگر نمائندے بدستور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ابھی بھی اگر ایران کوئی دانشمندانہ مَوقِف اختیار کرنے پر تیار ہو جائے تو اُس کے لئے بات چیت کا دروازہ بہرحال اب بھی کھلا ہے۔

اُدھر تہران میں سرکردہ ترین ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامِنہ ای نے آج کہا کہ لبنان میں شکست اسرائیل کے لئے ایک بڑا دھچکہ تھی، لیکن ہارنے والے اِس شکست کا بدلہ لینے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے۔ خامِنہ ای نے کہا کہ اسلامی دُنیا کو بالخصوص عراق، لبنان اور فلسطین میں مغربی دُنیا کی سازشوں کے مقابلے پر چوکنا رہنا چاہیے۔ خامِنہ ای نے امریکہ پر یہ الزام بھی کاید کیا کہ وہ عراق میں شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے رہا ہے۔ ابھی پرسوں بدھ کے روز خامِنہ ای نے ایک بار پھر زور دے کر یہ بھی کہا تھا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔

اِسی دوران عالمی ذرائع ابلاغ میں مشہور امریکی صحافی کرِس ہَیجز کا وہ تازہ مضمون گردِش کر رہا ہے، جس میں اِس صحافی نے کہا ہے کہ امریکہ کے متعدد بحری بیڑے آبنائے ہرُمُز کی جانب روانہ ہو چکے ہیں اور اِسی مہینے یعنی اکتوبر کے اواخر تک ایران امریکی حملے کی زَد میں آ سکتا ہے۔

اِدھر آج فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ چَھ ممالک یعنی فرانس، برطانیہ، جرمنی، امریکہ، روس اور چین خاص طور پر ایران پر یورینیم کی افزودگی روک دینے اور یوں اپنا ایٹمی پروگرام بند کر دینے کے لئے زور دے رہے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ ایران کی طرف سے ایسا کرنے سے انکار کے بعد اب اِن ممالک کے درمیان اپنے آئندہ لائحہ عمل پر وسیع تر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق گو اب ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے خلاف کوئی اقدامات کرنے کے لئے سلامتی کونسل سے رجوع کیا جائے گا لیکن مذاکرات کا دروازہ ابھی بند نہیں کیا گیا ہے۔

اِسی دوران فرانسیسی وزیر خارجہ فلیپ دوست بلازی نے کہا ہے کہ حال ہی میں مبینہ طور پر ایٹمی دھماکہ کرنے والے شمالی کوریا کے خلاف سخت حکمتِ عملی اپنائی جانی چاہیے کیونکہ اِسی صورت میں ایران کو بھی یہ باور کرایا جا سکتا ہے کہ عالمی برادری ایران کے ایٹمی پروگرام کو قبول نہیں کرے گی۔