1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عالمی بحران میں ہنوور صنعتی نمائش، امید کی ایک کرن

جرمن شہر ہنوور میں ہونے والی صنعتی نمائش دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا صنعتی تجارتی میلہ شمار ہوتی ہے۔ لیکن موجودہ عالمی معاشی بحران کے باوجود اس عالمی میلے میں بیرونی دنیا سے نمائش کنندگان بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی اس صنعتی نمائش کا دورہ کیا

ہنوور میں یہ عالمی نمائش آئندہ جمعہ کے روز تک جاری رہے گی جس میں مجموعی طور پر 60 سے زائد ملکوں سے آنے والے چھ ہزار سے زائد صنعتی ادارے حصہ لے رہے ہیں۔

ہنوور میں اس بین الاقوامی صنعتی نمائش کے انعقاد کے وقت بھی عالمی معیشت کو شدید بحران کا سامنا ہے۔ قریب چھ ہفتے قبل ہنوور ہی میں جب کمپیوٹر مصنوعات کی عالمی نمائش منعقد ہوئی تھی تو وہ کامیابی حاصل نہیں کرپائی جو متوقع تھی۔ اب اسی شہر میں عالمی صنعتی نمائش

کتنی کامیاب رہے گی؟ اس بارے میں اس نمائش کے سربراہ Wolfram von Fritsch کہتے ہیں :’’ Hannover کی یہ نمائش اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی صنعت ابھی زندہ ہے ۔ صنعتی شعبہ پیچھے کی طرف نہیں جارہا بلکہ یہ نئی جدت اور مختلف موضوعات کے ساتھ سامنے آرہا ہے۔ اس سال یہ نمائش ، مستقبل کی منصوبہ بندی، معاشی ترقی کے لئے اور اقتصادی بحران سے نمٹنے کے عمل میں عالمی صنعت کی بھرپور مدد کرے گی۔‘‘

Hannover Messe Colani

اس نمائش میں جدید ترین ٹیکنالوجی کی حامل مشینیں پیش کی جا رہی ہیں

امسالہ نمائش کی ایک خاص بات یہ ہے کہ معاشی بحران کے باوجود ملکی اور غیر ملکی نمائش کنندگان کی شرکت پچھلے سالوں کی طرح بھرپور ہے لیکن صنعتی مصنوعات کی تجارت کے حوالے سے دیکھا جائے تو صورت حال کچھ تشویش ناک بھی ہے۔ مثلا جرمنی میں اسی عالمی بحران کی وجہ سے بھاری اور ہلکی مشینیں تیار کرنے والی صنعتوں کی پیداوار گذشتہ مہینوں کے دوران تیزی سے کم ہوئی ہے۔ صرف فروری کے مہینے میں مشین سازی کی صنعت کو ملنے والے برآمدی آرڈرزکی تعداد آدھی ہو کر رہ گئی۔

Phoenix Contact نامی ایک کمپنی سے وابستہ Roland Bent کا کہنا ہے: ’’یہ بات تو یقینی ہے کہ ہم معاشی بحران سے متاثر ہوئے ہیں ۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ نمائش مثبت اثرات پیدا کرے گی ۔ میرے پاس کوئی جادوئی شیشہ تو نہیں ہے جسے دیکھ کر میں یہ بتا سکوں کہ معاشی بحران کب ختم ہوگا۔ لیکن ایک بات میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس عالمی نمائش میں اپنے

گاہکوں کے ساتھ نہایت ہی مفید بات چیت کریں گے، تاکہ صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کے بہتر سے بہتر حل تلاش کرسکیں۔‘‘

اس کا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ بات چیت تو ہوگی لیکن مشینوں کی تیاری کے لئے نئے آڈرز شائد نہ مل سکیں۔ لیکن سب سے اہم سوال کہ آخر یہ معاشی بحران کب ختم ہو گا، اور کب نئے آڈرز ملنا شروع ہوں گےِِِ؟ ۔اس کا جواب ابھی کسی کے پاس بھی نہیں ہے ۔ لیکن اس صنعتی نمائش کا انعقاد امید کی ایک کرن ضرور ہے۔