1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عالمی بحران اور چینی حکومت کے اقدامات

موجودہ مالیاتی بحران کے باوجود چین نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اس کی معیشت مستحکم ہورہی ہے۔ چینی رہنماوٴں کے مطابق دراصل یہ وقت پر اُٹھائے گئے صحیح اقدامات کا صلہ ہے۔

default

چین کے وزیر اعظم وین جیا باؤ کانگریس سے خطاب کے دوران

گُزشتہ سال نومبر میں چینی حکومت نے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے تقریباً چھہ سو بلین ڈالرز کے مالی منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ جمعرات کو چینی وزیر اعظم وین جیاباوٴ نے 585 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کے منصوبے میں مزید رقم کے اضافے کا کوئی اعلان نہیں کیا جس سے اقتصادی منڈیوں میں قدرے مایوسی رہی۔

اگرچہ چین کے اعلیٰ عہدےداروں نے اس بات کی طرف اشارہ دیا ہے کہ بیجنگ حکومت مزید مالی امداد کرنے کے لئے بھی تیار ہے تاہم ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں یہ غیر ضروری اقدام ثابت ہوسکتا ہے کیوں کہ پہلے ہی جو کچہ کیا جاچکا ہے اُسں کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ نے جمعرات کو قومی پارلیمان کے سالانہ خطاب میں کہا کہ مالیاتی بحران کے باوجود بیجنگ حکومت رواں برس آٹھ فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

China Alltag 2009 Chatten mit Wen Jiabao

چینی وزیر اعظم انٹر نیٹ کے ذریعے عوامی سوالات کا جواب دیتے ہوئے

چائنا نیشنل ایسوسی ایشن فار انٹرنیشنل سٹڈیز کے عہدے دار وکٹر گاؤ کے مطابق چین میں گُزشتہ تیس برسوں میں اقتصادی ترقی کی شرح مسلسل نو فی صد رہی ہے تاہم حالیہ برسوں میں یہ شرح ڈبل ڈجٹ میں داخل ہوگئی تھی۔ گاوٴ کے مطابق چین میں اس سال آٹھ فی صد اقتصادی ترقی کی شرح اگرچہ دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے تاہم چین میں حالیہ برسوں میں ترقی کی شرح سے یہ تین چار فی صد کم ہے۔

وکٹر گاؤ نے کہا: ’’مجھے اس بات کی فکر نہیں ہے کہ چین اس سال ترقی کی شرح میں آٹھ فی صد کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا یا نہیں بلکہ میری دلچسپی اس میں ہے کہ یہ شرح معیاری ہو۔‘‘

چین کے مرکزی بینک کے گورنر Zhou Xiaochuan کے مطابق معیشت پٹری پر آرہی ہے جس کا یہ مطلب ہوا کہ اس حوالے سے حکومتی پالیسیاں کارآمد ثابت ہورہی ہیں۔ گورنر کے مطابق چین نے دوسرے ملکوں سے یہ سبق سیکھا کہ اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے فیصلوں میں تاخیر سے مارکیٹ کا اعتماد بحال نہیں ہوتا ہے۔ چین کے مرکزی بینک کے گورنر کے مطابق اسی وجہ سے چین نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لئے اقدامات میں تاخیر کرنے کی بجائے وقت پر صحیح فیصلے کئے۔

چین کو دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز جرمنی کو حاصل تھا۔ امریکہ میں صدر اوباما بھی ایک بڑے اقتصادی پیکیج کا اعلان کرچکے ہیں تاہم وہاں غیر یقینی کی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔