1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ

جرمن درالحکومت برلن میں جاری عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کا شمار اسپورٹس کی دنیا کے بڑے مقابلوں میں ہوتا ہے۔ 15 اگست سے شروع ہونے والی اس چیمپئن شپ میں متعدد نئے عالمی ریکارڈ قائم ہو چکے ہیں۔

default

دائیں جانب جمائکا کی شیلی این فریزر

جہاں دوسرے روز جرمنی اور چین مجموعی تمغوں کی دوڑ میں آگے تھے، وہیں تیسرے روز کے اختتام پراب روس نے پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ روس مجموعی طورپر پانچ تمغوں کے ساتھ سرفہرست ہے، جن میں دو سونے، ایک چاندی اور دو کانسی ہیں۔ جمائیکا دو سونے کے تمغوں کے ساتھ دوسرے جبکہ پولینڈ ایک سونے کےتمغے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

گزشتہ روز امریکی ایتھلیٹ ٹائسن گے نے کہا کہ و ہ 200 میٹر کے مقابلوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ اپنے اعزاز کا دفاع کرنے والے گے نے زخمی ہونے کے بعد اپنے اس فیصلے سے متعقلہ کمیٹی کوآگاہ کر دیا ہے۔ اس سے قبل سو میٹر کی دوڑ میں ٹائسن گے کی جمائیکا کے اوسین بولٹ سے شکست کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ 200 میٹر میں ایک مرتبہ پھرایک سنسنی خیز مقابلہ دیکھنےکوملے گا۔ اوسین بولٹ کے 100 میٹر میں عالمی ریکارڈ بنانے کو ابھی 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے، کہ ان کی ہم وطن شیلی این فریزر نے بھی 100 میٹر دوڑ میں سونے کا تعغہ حاصل کر لیا۔ فریزر نے یہ فاصلہ 10.73سیکنڈ میں طے کیا اوران کی اس جیت کے ساتھ ہی پورے اسٹیڈیم میں ہرطرف جمائیکا کے پرچم نظرآ رہے تھے۔ 22 سالہ فریزر بیجنگ اولمپکس کی گولڈ میڈلسٹ بھی ہیں۔ دوڑ جیتنے کے بعد انہوں نے کہا کہ ایک ساتھ اولمپک اورعالمی چیمپئن ہونا انتہائی خوشی کی بات ہے۔

دوسری جانب کیوبا کی یارگیلس ساوییگنی نے ٹرپل جمپ کے مقابلوں میں اپنے ٹائٹل کا بخوبی دفاع کیا۔ انہوں نے 14.95 میٹرکی جمپ لگا کرسونے کا تمغہ حاصل کیا۔ ایتھوپیا کی کینے نیسا بےکےلے نے لگاتار چوتھی مرتبہ دس ہزارمیٹرکا ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ آج دوسرے مقابلوں کے ساتھ ساتھ مردوں کے ٹرپل جمپ کا فائنل، مردوں کی 400 میٹررکاوٹوں کی دوڑ اورخواتین کی 400 میٹر دوڑ کے فائنل مقابلے ہونگے۔